أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَعۡطٰى قَلِيۡلًا وَّاَكۡدٰى ۞

ترجمہ:

اور تھوڑا سا مال دیا اور روک لیا

النجم : ٣٤ میں ” اکدی “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : وہ پتھر کی طرح سخت نکلا، یہ لفظ ” کدیہ “ سے بنا ہے، اس کا معنی ہے : سخت زمین، جب کنواں کھودا جائے اور اس میں کوئی ایسا پتھر نکل آئے جو کھودنے سے عاجز کر دے تو اس وقت کہتے ہیں : ” قد اکدی “ پھر اس کا استعمال اس شخص کے متعلق ہونے لگا جو کچھ مال دے کر رک جائے اور پورا مال نہ دے۔ فتراء نے کہا : اس کا معنی ہے : دینے سے رک جانا اور عطاء کو منقطع کردینا۔ زیر تفسیر آیت میں یہی معنی مراد ہے۔

( لسان العرب ج ١٣ ص ٣٦، القاموس المحیط ص ١٣٢٧، مختار الصحاح ص ٣٢٩ )

القرآن – سورۃ نمبر 53 النجم آیت نمبر 34