أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الۡمُنۡتَهٰىۙ ۞

ترجمہ:

اور یہ کہ آخرکار آپ کے رب کے پاس ہی پہنچنا ہے

النجم : 42 میں فرمایا : اور یہ کہ آخر کار آپ کے رب کے پاس ہی پہنچنا ہی۔

اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی وحدانیت پر دلیل

اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی وحدانیت کی دلیل ہے، کیونکہ ہر چیز کے سبب کی انتہائی اللہ تعالیٰ پر ہوجاتی ہے، مثلاً زید کی پیدائش کا سبب اس کا باپ ہے، اور اس کے باپ کی پیدائش کا سبب اس کا باپ ہے اور اس کا سبب پھر اس کا باپ ہے اور یہ سلسلہ حضرت آدم ( علیہ السلام) تک پہنچے گا، اب سوال ہوگا کہ حضرت آدم کی پیدائش کا سبب کون ہے ؟ لامحالہ کہنا پڑے گا کہ ان کی پیدائش کا سبب ایسی ذات ہو جو فی نفسہ حادث اور ممکن نہیں ہے اور وہ ذات قدیم اور واجب ہے، وہ سب کے وجود کا سبب ہے اور اس کا سبب کوئی نہیں ہے کیونکہ وہ حادث اور ممکن نہیں ہے، قدیم اور واجب ہے اور ضروری ہے کہ وہ ذات واحد ہو کیونکہ اگر وہ ذات متعدد ہو تو ان متعدد ذات میں قدم اور وجوب مشترک ہوگا اور چونکہ دو چیزیں بغیر باہم امتیاز کے نہیں ہوسکتیں اس لئے ہر ذات میں دو جز ہوں گے، ایک جز مشترک ہوگا اور ایک جز ممیز ہوگا، اور جس ذات کے دو جز ہوں وہ مرکتب ہوتی ہے اور مرکتب حادث اور ممکن ہوتا ہے اس لئے جو ذات واجب اور قدیم ہو وہ واحد ہی ہوگی او جو قدیم واجب اور واحد ہوتی ہے اور مرکب حادث اور ممکن ہوتا ہے اس لئے جو ذات واجب اور قدیم ہو وہ واحد ہی ہوگی اور جو قدیم واجب اور واحد ہو وہی اللہ عزوجل کی ذات ہے، اس لئے ہر چیز کی انتہاء اللہ تعالیٰ پر ہوتی ہے اور احادیث میں بھی اس دلیل کی طرف اشارہ ہے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ تم میں سے کسی کے پاس شیطان آتا ہے، اور کہتا ہے کہ فلاں چیز کو کس نے پیدا کیا، فلاں چیز کو کس نے پیدا کیا، حتیٰ کہ وہ کہتا ہے کہ تمہارے رب کو کس نے پیدا کیا، جب وہ یہاں پر پہنچے تو تم شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرو اور وہ رک جائے گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :3276، صحیح مسلم رقم الحدیث 134)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ لوگ ہمیشہ سوال کرتے رہیں گے حتیٰ کہ کہا جائے گا کہ اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ جب کوئی شخص ایسے سوال کو پائے تو وہ کہے کہ میں اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث 7296، صحیح مسلم رقم الحدیث 134، سنن ابو دائود رقم الحدیث 4721، مسند احمد ج 2 ص 282)

القرآن – سورۃ نمبر 53 النجم آیت نمبر 42