أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَنَّ سَعۡيَهٗ سَوۡفَ يُرٰى ۞

ترجمہ:

اور یہ کہ اس کا عمل عنقریب دیکھا جائے گا

النجم :40-41 میں فرمایا : اور یہ کہ اس کا عمل عنقریب دیکھا جائے گا۔ پھر اس کو پورا پورا عوض دیا جائے گا۔

قیامت کے دن انسان کے گزشتہ اعمال دکھانے کی توجیہ

یعنی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انسان کا عمل سب کو دکھائے گا، پھر اس کے عمل کی اس کو پوری پوری جزا دی جائے گی۔

اس آیت میں مومنین کے لئے بشارت ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کے نیک اعمال سب کو دکھائے گا تاکہ مومنین اپنی عزت افزائی سے خوش ہوں یا فرشتے اور تمام مخلوق قیامت کے دن مومنین کے نیک اعمال کو دیکھے گی اور اس سے مومنین خوش ہوں گے اور اپنے نیک اعمال پر فخر کریں گے اور کافر غمگین ہوں گے، کیونکہ ان کے برے اعمال کو ساری مخلوق دیکھے گی اور وہ رسوا ہوں گے۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جو اعمال انجام دیئے جا چکے وہ گزرنے کے بعد فنا ہوگئے ان کو کیسے دکھایا جائے گا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نیک اعمال کی جگہ حسین صورتیں دکھائی جائیں گی اور برے اعمال کی جگہ بری اور ڈرائونی صورتیں دکھائی جائیں گی۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ انسان کو اور اس کے اعمال کو پیدا کرنے والا اور ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور جس طرح اللہ تعالیٰ انسان کو اس کے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرے گا، اسی طرح اس کے اعمال کو بھی دوبارہ پیدا کرے گا اور اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کے سامنے اس کو بعید سمجھنا گم راہی اور جہالت کی بات ہے، کتنی چیزیں ایسی ہیں جن کا پہلے کوئی تصور نہیں تھا، لیکن سائنس کی تیز رفتار ترقی کے باعث اب وہ ہمارا روز مرہ کا تجربہ ہوچکی ہیں، پہلے یہ جاننے کا کوئی تصور نہیں تھا کہ خون کے ایک قطرے میں کتنے ملی گرام گلوکوز ہے اور کتنے ملی گرام کو لیسٹرول ہے اب ایسی مشینیں ایجاد ہوچکی ہیں جس سے ہر شخص معلوم کرسکتا ہے کہ اس کے خون میں گلوکوز کی کتنی مقدار ہے اور کو لیسٹرول کی کتنی مقدار ہے، خود میرے پاس ایسا میٹر ہے جس سے میں اپنا گلوکوز اور کو لیسٹرول جانچتا رہتا ہوں، لیکن یہی بات اب سے آٹھ نو سو سال پہلے امام غزالی اور امام رازی کے زمانہ میں کہی جاتی تو اس پر کوئی یقین نہ کرتا۔ سائنس دان کہتے ہیں : ہم جو باتیں کرتے ہیں وہ آوازیں معدوم نہیں ہوئیں، وہ فضا میں موجود ہیں اور وہ اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ گزشتہ آوازوں کو ریکارڈ کر کے لوگوں کو سنا سکیں اور جب گزشتہ آوازوں کو سنایا جاسکتا ہے تو پھر گزشتہ اعمال کو بھی دکھایا جاسکتا ہے، نیز یہ تو عام مشاہدہ ہے کہ ویڈیو کیمرے کے ذریعے انسان کی آوازوں اور اس کے کاموں کو بعینہ اسی طرح دکھایا اور سنایا جاتا ہے تو جب انسان ویڈیو کیمرے کے ذریعے گزشتہ کام اور گزشتہ آوازیں دکھا اور سنا سکتا ہے تو خالق کائنات ویڈیو کیمرے کی وساطت کے بغیر انسان کے گزشتہ کام کیوں نہیں دکھا اور سنا سکتا، ہم اسباب اور واسطوں کے محتاج ہیں، خالق کائنات کسی سبب اور واسطے کا محتاج نہیں ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 53 النجم آیت نمبر 40