أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِبۡرٰهِيۡمَ الَّذِىۡ وَفّٰىٓ ۞

ترجمہ:

اور جو ابراہیم کے صحائف میں ہے جنہوں نے وفا کی

 

النجم : ٣٦ میں پہلے موسیٰ کے صحیفوں کا ذکر ہے اور اس کے بعد النجم : 37 میں ابراہیم کے صحیفوں کا ذکر ہے، حالانکہ واقع میں پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی، پھر اس کے کافی عرصہ کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی ہے، تو حضرت ابراہیم سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کس وجہ سے کیا گیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے صحائف یعنی ” تورات “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صحائف سے زیادہ مشہور تھے، نیز یہودی مکہ مکرمہ میں آتے رہتے تھے اور ان کی زبانی مشرکین مکہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر بہت زیادہ سنا تھا، اس لیے ان کی شہوت بھی مکہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے زیادہ تھی اور مشرکین مکہ یہودیوں کی زبانی حضرت موسیٰ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صحائف کی ان آیات کو سنتے رہتے تھے کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور یہ کہ ہر انسان کو اس کا عوض ملے گا جو اس نے کیا اور مشرکین کے نزدیک یہ آیات مشہور و معروف تھیں اس لیے اللہ تعالیٰ ان کی شہرت کو بنیاد بنا کر مشرکین کو سرزنش فرما رہا ہے کہ جب تمہیں یہ معلوم ہے کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، پھر تم دوسرے شخص کی جگہ اس کا عذاب اٹھانے کی ضمانت کیوں دے رہے ہو ؟

حضرت ابراہیم کے دفا کرنے کا معنی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کو پوری طرح بجا لائے، نمرود کے سامنے پیغام پوری طرح سنایا، نمرود کی دھمکیوں سین ہیں ڈرے، توحید کا اعلان کرنے کی پاداش میں بےخطر آتش نمرود میں کود پڑے اور اللہ تعالیٰ سے جو وعدہ کیا تھا وفا کیا، اپنے نوجوان بیٹے کو اللہ کی راہ میں ذبح کرنے سے ذرا نہ ہچکچائے اور تادم آخر دین کی تبلیغ کرتے رہے اور اپنا مال، اپنی جان اور اپنی اولاد سب اللہ سبحانہٗ سے وفا میں نچھاور کردی۔

القرآن – سورۃ نمبر 53 النجم آیت نمبر 37