أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هٰذَا نَذِيۡرٌ مِّنَ النُّذُرِ الۡاُوۡلٰٓى ۞

ترجمہ:

یہ پہلے عذاب سے ڈرانے والوں میں سے ایک ڈرانے والے ہیں

النجم :56-62 میں فرمایا : یہ پہلے عذاب سے ڈرانے والوں میں سے ایک ڈرانے والے ہیں۔ قریب آنے والی ساعت قریب آچکی ہے۔ اللہ کے سوا (وقت معین پر) اسے کوئی دکھانے والا نہیں ہے۔ تو کیا تم اس کلام پر تعجب کرتے ہو۔ اور تم ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو۔ اور تم کھیل کود میں پڑے ہو۔ اللہ کے لئے سجدہ کرو اور اس کی عبادت کرو۔

ابن جریج اور محمد بن کعب نے بیان کیا ہے کہ اس آیت میں نذیر سے مراد سید محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، یعنی جس طرح انبیاء سابقین اپنی اپنی امتوں کو عذاب آخرت سے ڈراتے رہے ہیں، اسی طرح اے قریش مکہ ! میں بھی تم کو عذاب آخرت سے ڈرا رہا ہوں، اگر تم نے میری اطاعت کرلی تو فبہا ورنہ تم کو بھی وہی عذاب پہنچے گا جو اس سے پہلے کفار کو پہنچتا رہا ہے۔ قتاوہ نے کہا : اس سے مراد قرآن ہے اور جس طرح سابقہ کتابوں نے عذاب سے ڈرایا تھا اسی طرح قرآن مجید نے بھی آخرت کے عذاب سے ڈرایا ہے۔

ابو مالک نے کہا : میں نے تم کو پچھلی امتوں کے جن واقعات سے ڈرایا ہے، اس کا ذکر حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ کے صحیفوں میں ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 53 النجم آیت نمبر 56