أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَنَّهٗ هُوَ اَضۡحَكَ وَاَبۡكٰىۙ ۞

ترجمہ:

اور یہ کہ اسی نے ہنسایا اور اسی نے رلایا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور یہ کہ اسی نے ہنسایا اور اسی نے رلایا۔ اور یہ کہ اسی نے مارا اور اسی نے زندہ کیا۔ اور یہ کہ اسی نے نر اور مادہ کے دو جوڑے پیدا کئے۔ نطفہ سے، جب اس کو مادہ کے رحم میں ٹپکایا گیا۔ اور یہ کہ دوسری زندگی دینا اسی کے ذمہ ہے۔ اور یہ کہ اسی نے غنی کیا اور مال دیا۔ اور یہ کہ شعریٰ (ستارے) کا وہی رب ہے۔ اور یہ کہ اسی نے پہلی (قوم) عاد کو ہلاک کردیا۔ اور (قوم) ثمود میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑا۔ اور اس سے پہلے قوم نوح (کے کافروں) کو بیشک وہ وہ بہت ظالم اور بہت سرکش تھے۔ اور (قوم لوط) کی پلٹائی ہوئی بستیوں کو اوپر سے نیچے پھینک دیا۔ تو (سنگریزوں کی بارش نے) ان کو ڈھانپ لیا جس نے ڈھانپ لیا۔ پس (اے مخاطب) تو اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں میں شک کرتا رہے گا۔ یہ پہلے عذاب سے ڈرانے والوں میں سے ایک ڈرانے والے ہیں۔ قریب آنے والی ساعت قریب آچکی ہے۔ اللہ کے سوا (وقت معین پر) اسے کوئی دکھانے والا نہیں ہے۔۔ تو کیا تم اس کلام پر تعجب کرتے ہو۔ اور تم ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو۔ اور تم کھیل کود میں پڑے ہو۔ سو اللہ کے لئے سجدہ کرو اور اس کی عبادت کرو۔ (النجم :43-62)

اللہ تعالیٰ کے ہنسانے اور رلانے کی توجیہات

ہر چند کہ انسان کسی سبب سے ہنستا ہے اور کسی سبب سے روتا ہے، لیکن یہ اسباب اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہیں اور درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی ہنساتا ہے اور وہی رلاتا ہے، اس آیت میں اسباب ظاہرہ سے صرف نظر کر کے سبب حقیقی کی طرف اسناد فرمایا ہے، جیسا کہ اس حدیث میں ہے :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر (رض) کا انتقال ہوگیا تو میں نے حضرت عائشہ (رض) سے حضرت عمر کے اس قول کا ذکر کیا کہ میت کے گھر والوں کے رون سے میت کو عذاب ہوتا ہے، حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ حضرت عمر پر رحم فرمائے، اللہ کی قسم ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس طرح نہیں فرمایا کہ کسی کے رونے سے اللہ تعالیٰ مومن کو عذاب دیتا ہے، لیکن آپ نے یہ فرمایا تھا کہ بیشک اللہ کافر کے گھر والوں کے رونے سے کافر پر عذاب زیادہ کرتا ہے اور تمہارے لئے قرآن کی یہ آیت کافی ہے کہ ” کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (الفاطر :18 النجم :38) اس وقت حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اور اللہ ہی ہنساتا ہے اور وہی رلاتا ہے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث :1286، صحیح مسلم رقم الحدیث 929)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسا خطبہ دیا کہ میں نے ایسا خطبہ اس سے پہلے کبھی نہیں سنا تھا، آپ نے فرمایا : اگر تم ان چیزوں کو جان لو جن کو میں جانتا ہوں تو تم کم ہنسو اور زیادہ رئوو، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب نے اپنے چہروں کو چھپالیا اور ان کے رونے کی آوازیں آرہی تھیں، پھر ایک شخص نے پوچھا : میرا باپ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : فلاں شخص ہے، پھر یہ آیت نازل ہوئی :

” ایسی باتوں کے متعلق سوال نہ کرو جو تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں۔ (المائدہ :101)

(صحیح البخاری رقم الحدیث :4621، صحیح مسلم رقم الحدیث 2359، سنن ترمذی رقم الحدیث 239)

عطاء بن ابی مسلم نے اس کی تفسیر میں کہا : یعنی اس نے لوگوں کو خوش کیا اور غم زدہ کیا۔

حسن بصری نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کو جنت میں ہنسایا اور اہل دوزخ کو دوزخ میں رلایا۔

ضحاک نے کہا : اللہ تعالیٰ نے زمین میں سبزہ اگا کر اس کو خوش کیا اور آسمان کو بارش برسا کر رلایا۔

ذوالنون مصری نے کہا : مومنین اور عارفین کو اپنی معرفت کے سورج سے ہنسایا اور کافروں اور بدکاروں کو ان کے گناہوں کی ظلمت سے رلایا۔

سہل بن عبداللہ نے کہا : اطاعت گزاروں کو اپنی رحمت سے ہنسایا اور نافرمانوں کو اپنے غضب سے رلایا۔

(الکشف وا لبیان ج 9 ص 156، داراحیاء التراث العربی، بیروت 1422 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 53 النجم آیت نمبر 43