أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَنَّهٗ هُوَ اَمَاتَ وَ اَحۡيَا ۞

ترجمہ:

اور یہ کہ اسی نے مارا اور اسی نے زندہ کیا.

النجم : 44-46 میں فرمایا : اور یہ کہ اسی نے مارا اور اسی نے زندہ کیا۔ اور یہ کہ اسی نے نر اور مادہ کے دو جوڑے پیدا کئے۔ نطفہ سے، جب اس کو مادہ کے رحم میں ٹپکایا۔

موت اور حیات کی مختلف تعبیریں

یعنی اللہ نے موت اور حیات کے اسباب پیدا کئے، ایک قول یہ ہے کہ اس نے موت اور حیات کو پیدا کیا۔ ایک قول یہ ہے کہ اس نے کافر کو کفر کے ساتھ موت دی اور مومن کو ایمان کے ساتھ حیات دی، ایک قول یہ ہے کہ اس نے اپنے عدل سے مارا اور اپنے فضل سے زندہ کیا، دینے سے منع کرنا اور بخل کرنا یہ موت ہے اور سخاوت اور خرچ کرنا حیات ہے، ایک قول یہ ہے کہ آباء پر موت طاری کی اور ابناء کو حیات دی، ایک قول یہ ہے کہ موت سے مراد خشک سالی اور قحط ہے اور حیات سے مراد فصلوں کی زرخیزی ہے، ایک قول یہ ہے کہ موت سے مراد نیند ہے اور حیات سے مراد بیداری ہے اور ایک قول یہ ہے کہ مارنا دنیا میں ہے اور زندہ کرنا قیامت کے بعد ہے۔

اور اللہ تعالیٰ نے اولادِ آدم سے نر اور مادہ پیدا کئے اور نطفہ سے مراد منی کا قطرہ ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 53 النجم آیت نمبر 44