أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّعۡرٰىۙ ۞

ترجمہ:

اور یہ کہ شعریٰ ( ستارے) کا وہی رب ہے

” شعریٰ “ کا معنی اور مصداق

النجم :49 میں فرمایا : اور یہ کہ شعریٰ (ستارے) کا وہی رب ہے۔

مجاہد نے کہا : شعریٰ ایک ستارہ ہے جو الجوزاء کے عقب میں ہے، زمانہ جاہلیت میں مشرکین اس کی عبادت کرتے تھے۔

(جامع البیان رقم الحدیث :25259، دارالفکر بیروت 1415 ھ )

علامہ زمخشری متوفی 538 ھ نے لکھا ہے : ” الشعریٰ “ ایک ستارہ ہے جو الجوزاء کے عقب سے طلوع ہوتا ہے، الغمیصاء اور العبود دو ستارے ہیں ان میں سے ایک ” شعریٰ “ میں ہے، اس کا کلب الجبار ہے، قبیلہ خزاعۃ اس کی عبادت کرتا تھا، ان کا سردار ابو کبشہ تھا، اس نے اس ستارے کی عبادت کا طریقہ ایجاد کیا تھا اور قریش رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ابو کبشہ کی مشابہت کی وجہ سے ابن ابی کبشہ کہتے تھے کہ جس طرح ابو کبشہ نے بتوں کی عبادت کے بجائے ستارہ ” شعریٰ “ کی عبادت کا طریقہ ایجاد کیا تھا اسی طرح سیدنا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین کے طریقہ کی مخالفت کر کے، اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کا طریقہ ایجاد کیا۔ (الکشاف ج 429، داراحیاء التراث، العربی، بیروت 1417 ھ)

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی 256 ھ روایت کرتے ہیں :

ابو سفیان نے کہا ہرقل نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مکتوب پڑھ کر جو کہنا تھا وہ کہا اور جب وہاں شور ہوگیا تو ہم لوگوں کو وہاں سے نکال دیا گیا، اس وقت میں نے اپنے اصحاب سے کہا : ابو کبشہ کے بیٹے کا معاملہ بہت بڑھ چکا ہے، اب گوری چمڑی والوں کا بادشاہ بھی ان سے ڈرتا ہے (صحیح البخاری رقم الحدیث :7 سنن ابو دائود، رقم الحدیث 5136 ء سنن ترمذی رقم الحدیث 2717)

القرآن – سورۃ نمبر 53 النجم آیت نمبر 49