أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَنَّ عَلَيۡهِ النَّشۡاَةَ الۡاُخۡرٰىۙ‏ ۞

ترجمہ:

اور یہ کہ دوسری زندگی دینا اسی کے ذمہ ہے

النجم :47-48 میں فرمایا : اور یہ کہ دوسری زندگی دینا اسی کے ذمہ ہے۔ اور یہ کہ اسی نے غنی کیا اور مال دیا۔

” اقنی “ کا معنی

یعنی قیامت کے بعد مردہ جسموں میں وہی روح ڈالے گا اور وہی جس کو چاہتا ہے خوش حال کردیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے مال دیتا ہے۔

اس آیت میں ” اقنی “ کا لفظ ہے اس کا مادہ ” قنیہ “ ہے اس کا معنی ہے وہ مال جس کا ذخیرہ کیا گیا ہو، ایک قول ” اقنی “ کا معنی ہے ” ارضی “ راضی کیا، اس کی تحقیق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رضا اور اطاعت کی دولت عطا کی اور یہ کہ سب سے بڑی خوش حالی ہے۔ (المفردات ج 2 ص 535، مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ 1418 ھ)

” قنیٰ “ کا معنی ہے : مال حاصل کیا ”“ کا معنی ہے : اللہ نے راضی کیا۔

(القاموس المحیط ص 1326، موسستہ الرسالۃ، بیروت، 1425 ھ)

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد قرطبی مالکی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں :

ابو زید سے روایت ہے کہ جس کو سو بکرے دیئے گئے اس کو ” القنیٰ “ دی گئی اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جس کو سکونت دی گئی اس کو اللہ نے غنی کردیا اور ” قنیۃ “ دی اور سلیمان تیمی نے کہا ” اغنی و اقنی “ کا معنی ہے : اللہ نے اس کو غنی کردیا اور مخلوق کو اس کا محتاج کردیا۔ سفیان نے کہا : اس کا معنی ہے : اس کو قناعت سے غنی کردیا اور اس کو راضی کردیا اور اخفش نے کہا :” اقنیٰ “ کا معنی ہے، اس کو فقیر اور محتاج کردیا، ابن کیسان نے کہا : اس کو صاحب اولاد کردیا۔

(الجامع الاحکام القرآن جز 17 ص 110، دارالفکر، بیروت 1425 ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 53 النجم آیت نمبر 47