‘اتوار تحریر سلسلے کی پہلی پوسٹ،ابوفراس الحمدانی کے چند اشعار’

 

🤲رضاے مولیٰ از ہمہ اولیٰ🤲

اس جہانِ رنگ و بُو میں ایک سے بڑھ کر ایک فن اور ایک سے بڑھ کر ایک فن کار ہوا ہے مثلاً شاعری کو ہی لے لیجیے،نظریاتی اور اعتقادی حیثیت سے قطعِ نظر،زمانہ قدیم سے اب تک ایسے ایسے شعرا اور ان کے ایسے ایسے اشعار وجود میں آے ہیں کہ پڑھ سُن کرطبیعت بے ساختہ منفعل ہوجاتی ہے۔

 

ایسا ہی ایک شاعر ابوفراس الحمدانی ہے۔حمدانی چوتھی صدی ہجری کا شاعر ہے،اس کے مشہورِ زمانہ قصائد میں سے وہ قصیدہ بھی ہے جو اس نے اپنے چچازادبھائی،بادشاہ سیف الدولۃ حمدانی کے لیے لکھا تھا۔

 

اس طویل قصیدے کے درجِ ذیل اشعارمیرے خیال سے اپنی صوری و معنوی خوبیوں کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں۔

 

اشعاردیکھیے:

فلیتک تحلو والحیاۃ مریرۃ ۔۔۔۔۔ولیتک ترضی والانام غضاب

فلیت الذی بینی وبینک عامر ۔۔۔۔۔وبینی و بین العالمین خراب

اذانلت منک الودفالکل ھین۔۔۔۔۔وکل الذی فوق التراب تراب

 

ان اشعار میں شاعر اپنے ممدوح و محبوب سیف الدولۃ کو مخاطب کرکے کہہ رہا ہے:

زندگی خواہ کتنی ہی تلخ و تُرش ہو، کاشکے!تیری نظر میٹھی رہے،

جگ روٹھتا ہے تو روٹھے لیکن ایک تُو راضی ہوتو سب خیرہے،

دُنیاساری سےچاہےبگڑجائے لیکن تیرامیراتعلق استواررہنا چاہیے،

میں تیری محبت پالوں توبقیہ سب ہیچ ہے کیونکہ تیرےسوا سب خاک ہی خاک ہے۔

 

ابو فراس کے یہ اشعار میں جب بھی پڑھتا ہوں،مجھے اپنے خالق کی بہت یاد آتی ہے اور پھر میں ان کا رُخ اسی لم یزل کی جانب کردیتا ہوں جو ہر جہت و سمت سے پاک ہے۔

 

علما کہتے ہیں اگر کوئی شخص ان اشعار کو رب العالمین کی بارگاہ میں پیش کرکے اظہارِ محبت و عقیدت کرے تو کوئی حرج نہیں۔

 

کاش ابو فراس الحمدانی نے یہ اشعار ملِک الملوک شہنشاہوں کے شہنشاہ خالقِ ارض و سما کی نسبت سے ہی لکھے ہوتے تو پڑھنے کا ذوق کچھ اور ہی ہوتا کیونکہ رضاے مولیٰ از ہمہ اولیٰ۔

 

✍️شہبازاحمدبن محمد یوسف

20/02/2022

بعدِ عصر۔

 

# ہر اتوار تازہ تحریر پوسٹ کریں۔