💫اجتماعِ بُخاری کا مختصر بیانِ احوال💫

26 فروری یعنی کل کے اجتماعِ بُخاری کا اگر تفصیلی حال لکھوں تو لکھ نہ پاؤں، خُلاصہ عرض کرتا ہوں:

یہ شہرِ عزیز گوجرانوالہ کا فیضانِ مدینہ ہے جہاں طلبہ ہیں، اساتذہ ہیں،صحیح بُخاری کی کتابیں ہیں،محبوبِ دوجہاں کے مُوئے مبارک ہیں، خوشبوئیں مہک رہی ہیں،اگر کی بتیاں سلگ رہی ہیں اور دلوں میں طرح طرح کی امنگیں مچل رہی ہیں۔

 

یہ عینِ مسجد ہے، یہاں وسطِ مسجد میں کافی بڑا فانوس چھت کے ساتھ معلق ہے،جس کے ساتھ گُلاب کے تازہ پھولوں کی لڑیاں، گنبد نما شکل میں،فرشِ مسجد تک یوں آرہی ہیں جیسے رحمت کے فرشتے فرازِ فلک سے سُوے آدم آباد آرہے ہوں۔

 

یہ مسجد کی دیواریں ہیں جن میں جَڑی ہوئی شیشے کی طویل کھڑکیوں پر سُرخ پردے ڈالے گئے ہیں جو باہر کی ریل پیل سے بیگانہ کرکے دل کی بستی بسانے کا سامان کررہے ہیں۔

 

یہ فرشِ مسجد ہے جہاں اگلے ہال میں سُرخ رنگ کے نئے قالین اور ان کے بعد پرانے قالین بچھے ہوئے ہیں لیکن آج وہ بھی نئے لگ رہے ہیں؛سب نیا نیا لگ رہا ہے،دن نیا،صبح نئی،موسم نیا،لباس نئے،پوشاکیں نئی، ارادے نئے،امنگیں نئی،عزم نئے،نیتیں نئی،جذبے نئے،دیوانگی نئی، ولولے نئے،آہیں نئی،نالے نئے،سسکیاں نئی، آنسو نئے اور آنسو تو بہت نئے ہیں اور ہیں بھی بہت؛ بعض آنکھوں میں تو بلکل نئے لگ رہیں، اتنے کہ ان کے آٹھ سالہ دورِ تعلّم میں کبھی نہیں دیکھے لیکن کل دیکھے اور خوب دیکھے۔

 

کل تو خود سنگ دل راقم پر بعض مواقع بڑے کارگر ثابت ہوئے؛ اور اس کی پتھر آنکھیں بھی گاہے گاہے نم ہوتی رہیں؛ ایک بار جب یہ اپنے لیے مختص کردہ، صفحاتِ بُخاری کے نوربار مضامین، پڑھ رہا تھا اور حضرتِ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی اس روایت پر پہنچا کہ محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ فجر پڑھا کرہمارے رات کے خوابوں کے بارے پوچھنے کے لیے ‘اقبل علینا بوجھہ’ہماری جانب اپنا رُخِ والضحیٰ کرکے جلوہ فگن ہوجاتے؛ تو گیسوئے محبوب کو سامنے پاکر،ان کی نگاہِ التفات کی دل میں ایسی ٹیس اُٹھی کہ زبان کو بولنے کا یارا نہ رہا پھر آنکھوں نے سب حالِ دل لوحِ دل سے، حرف بحرف پڑھ کر دیر تک سنایا !!!

 

اٹھ اے نقابِ یار کہ بیٹھے ہیں دیرسے

کتنے غریب دیدۂ پُر نم لیے ہوئے

😢😥😥

✍️شہبازاحمد بن محمدیوسف

27/02/22