ساکنان مبارک پور کی سیاسی بصیرت کا امتحان!!

غلام مصطفےٰ نعیمی

روشن مستقبل دہلی

 

یوپی اسمبلی الیکشن اب آخری دور میں ہے۔سات مارچ کو آخری دور کی ووٹنگ ہے۔اسی مرحلے میں اعظم گڑھ ضلع کی مبارک پور سیٹ بھی شامل ہے۔یہ سیٹ کئی وجہوں سے بڑی خاص اور اہمیت کی حامل مانی جارہی ہے۔جس کی وجہ سے اس سیٹ پر سبھی سیاسی پارٹیاں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں، دیکھنا یہ ہے کہ ساکنان مبارک پور اپنی سیاسی سمجھ داری برقرار رکھ پاتے ہیں یا شدت جذبات میں اپنے ہوش وخرد کو پامال کر بیٹھیں گے۔

 

کیوں خاص ہے مبارک پور؟

 

یوں تو مبارک پور قصبہ اور اسمبلی حلقہ کئی وجہوں سے ممتاز ہے۔جن میں سب سے خاص چیز جو اس قصبے کو عالمی پہچان دلاتی ہے وہ حافظ ملت کے قائم کردہ “جامعہ اشرفیہ مبارک پور” جیسے ادارے کا ہونا ہے۔جو ملک کے نمایاں ترین اداروں میں سے ایک ہے۔جس میں ملک وبیرون ملک کے ہزاروں طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔اس ادارے کے فارغین میں نام ور اساتذہ، صحافی، مصنفین، شعرا، پروفیسران، سیاسی لیڈران اور کئی بڑے سیاسی وحکومتی مناصب کے حاملین شامل ہیں، بایں وجہ اس ادارے کی شہرت ملک گیر نہیں بلکہ عالم گیر ہے۔

موجودہ سیاسی منظر نامے کے لحاظ سے مبارک پور کو دو چیزیں ممتاز بناتی ہیں:

1۔افرادی اکثریت

2۔اپنا ممبر اسمبلی

 

پورے اسمبلی حلقے میں کُل تین لاکھ 53 ہزار 467 ووٹ ہیں۔جن کی تفصیل اس طرح ہے:

1۔مسلمان : ایک لاکھ دس ہزار

2۔ایس سی ایس ٹی : 78 ہزار

3۔ یادو : 61 ہزار

4۔ راجبھر : 17 ہزار

5۔ چوہان : 14 ہزار

6۔ راجپوت : 8 ہزار

7۔موریہ: 7 ہزار 500

8۔برہمن : 5 ہزار پانچ سو

 

اس تفصیل سے یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ یہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے، لیکن واضح اکثریت کے باوجود اس سیٹ پر صرف تین مسلمان ہی کامیابی حاصل کر سکے ہیں۔باقی ہر الیکشن میں مختلف سماج کے لوگ فتح یاب ہوتے رہے اور مسلمان ان کے لیے ووٹ دینے کی مشین بنے رہے۔

 

سیاسی سمجھ داری:

 

پچھلے دو الیکشن سے مسلمانوں نے خاصی سیاسی سمجھ داری کا ثبوت دیا ہے جس کی بدولت پچھلے دس سال سے یہاں مسلم ممبر اسمبلی منتخب ہورہا ہے۔شاہ عالم عرف گڈو جمالی اکلوتے مسلم ممبر اسمبلی ہیں جو پچھلے دس سال سے یہاں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔اب تک گڈو جمالی بی ایس پی(بہوجن سماج پارٹی) کے ٹکٹ پر منتخب ہوتے رہے۔اس بار کچھ وجوہات کی بنا پر انہوں نے بی ایس پی چھوڑ کر سماج وادی کو جوائن کرلیا۔پارٹی صدر اکھلیش نے انہیں ٹکٹ کا بھروسہ دلا کر علاقے میں متحرک رہنے کو کہا۔جمالی صاحب اکھلیش یادو کی باتوں میں آگیے مگر عین وقت پر اکھلیش یادو نے ان کا ٹکٹ کاٹ کر یادو سماج کے بندے کو ٹکٹ دے کر جمالی صاحب کو پیدل کردیا۔پیدل ہونے کے بعد جمالی صاحب نے حواس برقرار رکھے اور ایک اچھا فیصلہ کرتے ہوئے مجلس اتحاد المسلمین میں شامل ہوگیے۔ فی الحال وہ مجلس امیدوار کے طور میدان انتخاب میں موجود ہیں۔

 

سماج وادی کی شاطرانہ چال

 

اس سیٹ پر سماج وادی پارٹی سے اکھلیش یادو نامی امیدوار لگاتار دو الیکشن ہار چکا ہے۔(یہ امیدوار سپا مکھیا اکھلیش یادو کا ہم نام ہے)

موجودہ ودھایک گڈو جمالی سماج وادی میں شامل تھے۔سپا مکھیا نے گڈو جمالی ممبر کو بھروسے میں رکھا اور عین وقت پر دھوکہ دے کر ٹکٹ کاٹ دیا۔جمالی کی جگہ ان سے دو بار ہارنے والے امیدوار کو ٹکٹ دیا۔ایسا بھی نہیں ہے کہ اس سیٹ پر یادووں کی اکثریت ہو، یہاں یادو ووٹ صرف ساٹھ ہزار ہیں جبکہ مسلمان ایک لاکھ دس ہزار، پھر بھی سماج وادی نے جیتے ہوئے امیدوار کی بجائے ہارے ہوئے امیدوار پر داؤں کیوں لگایا؟

 

وجہ صرف اتنی سی ہے کہ ہارا ہوا امیدوار یادو سماج سے ہے جب کہ جیتا ہوا ودھایک مسلم سماج کا فرد ہے۔اکھلیش یادو مسلمانوں کی نفسیاتی کمزوری پکڑ چکے ہیں کہ مسلمانوں کو بی جے پی کا ڈر دکھاؤ مسلمان بغیر کسی مطالبے کے آپ کے پیچھے کھڑا نظر آئے گا۔اسی سوچ کے تحت سماج وادی نے مسلم اکثریتی علاقوں میں بھی مسلمانوں کو ٹکٹ نہیں دئے۔مظفر نگر ضلع کی چھ سیٹوں میں ایک بھی مسلمان کو ٹکٹ نہیں دیا، حسن پور جیسی مسلم اکثریتی سیٹ پر آر ایس ایس کارکن کو اپنا امیدوار بنایا۔اور اب اسی منصوبے پر عمل کرتے ہوئے گڈو جمالی کا ٹکٹ کاٹ کر اپنے سماج کے شکست خوردہ امیدوار کو ٹکٹ دیا۔سماج وادی کی سوچ کانگریس کی طرح بن گئی ہے کہ مسلمان بی جے پی سے اتنا خائف ہے کہ وہ اپنے جیتے ہوئے ودھایک کے خلاف جاکر ہمارے شکست خوردہ گھوڑے کو بھی فتح یاب کر سکتا ہے۔

 

سیکولر پارٹیوں کی منافقت

 

سیکولر پارٹیوں کی منافقت کا یہ رخ بھی نوٹ کیے جانے لائق ہے کہ یہ پارٹیاں کبھی بھی غیر مسلم علاقے سے مسلمان کو ٹکٹ نہیں دیتیں، لیکن مسلم علاقوں میں انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ غیر مسلم امیدوار تھوپ دیتی ہیں اور بھولا بھالا مسلمان ان کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر استعمال ہوجاتا ہے۔اس بار سماج وادی نے انتہائی چالاکی کے ساتھ مبارک پور میں بھی یہی کھیل کھیلا۔جمالی کو دھوکے میں رکھ کر عین وقت پر یادو امیدوار تھوپ دیا اب ایک لاکھ دس ہزار مسلم ووٹروں سے کہا جارہا ہے کہ وہ ساٹھ ہزار یادووں کا بوجھ اٹھائیں۔

غیر مسلم علاقوں میں پہلے ہی سے مسلمانوں کے لیے نو انٹری کا بورڈ لگا ہوا تھا اب اپنے علاقوں میں بھی ٹکٹ نہیں دیا جارہا ہے۔اگر مسلم علاقوں میں بھی غیر مسلم کو ٹکٹ ملے گا تو مسلمان الیکشن لڑنے کہاں جائیں گے؟

کیا سماج وادی پارٹی، یادو اکثریتی سیٹ سے کسی مسلمان کو ٹکٹ دے سکتی ہے؟

سماج وادی تو یادو بیلٹ میں مسلمانوں کو نگر پالیکا ممبری تک کا ٹکٹ نہیں دیتی لیکن مسلم بیلٹ میں اپنا امیدوار اتار کر ہمارا ووٹ ہضم کرنے کے لیے منہ کھولے کھڑی رہتی ہے۔

 

ساکنان مبارک پور کا امتحان:

 

پچھلے دس سال سے ساکنان مبارک پور نے سیاسی سمجھ داری دکھاتے ہوئے اپنا ممبر اسمبلی منتخب کرانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔حالانکہ پچھلا الیکشن نہایت قریبی مقابلے والا تھا جس میں گڈو جمالی نے اپنے قریبی حریف اکھلیش یادو کو 682 ووٹوں سے شکست دی تھی۔اس سے قبل 2012 میں بھی اسی امیدوار کو انہوں نے قریب 9 ہزار ووٹوں سے ہرایا تھا۔پچھلی بار قریبی مقابلے کی وجہ یہ تھی کہ کانگریس اور سماج وادی پارٹی مل کر الیکشن لڑ رہی تھیں اس لیے دونوں پارٹیوں کا ووٹ متحد تھا مگر ساکنان مبارک پور کی سوجھ بوجھ کی بدولت گڈو جمالی سیٹ نکالنے میں کامیاب رہے۔

اس بار کا مقابلہ پہلے سے زیادہ خاص بن گیا ہے کہ موجودہ ودھایک ایک ایسی پارٹی سے لڑ رہا ہے جو مسلم قیادت کے لیے کوشاں ہے۔یوں تو مجلس تقریباً سو سیٹوں پر الیکشن لڑ رہی ہے لیکن مبارک پور کی سیٹ اس لیے بہت خاص ہے کہ یہاں اس کا امیدوار موجودہ ودھایک ہے۔اگر یہاں کے مسلمان اپنی سیاسی سمجھ داری برقرار رکھیں تو اپنا لیڈر بھی کامیاب ہوگا اور مسلم قیادت والی پارٹی بھی پروان چڑھے گی۔

 

٢٩ رجب المرجب ١٤٤٣ھ

3 مارچ 2022 بروز جمعرات