تحریر : پروفیسر عون محمد سعیدی مصطفوی بہاولپور

(بے جوڑ رشتے، بہت بڑا سماجی مسئلہ)

بے جوڑ رشتے ہمارا بہت بڑا سماجی مسئلہ ہیں .. یہ معاشرہ اس وقت جہالت کی وجہ سے دو بد ترین انتہاؤں پہ کھڑا ہے.

کہیں تو والدین اپنی اولاد کے جذبات کا قتل عام کرتے نظر آتے ہیں… اور کہیں اولاد والدین سے بالا بالا من مانے فیصلے کرتی نظر آتی ہے.

اسلام ان دونوں انتہاؤں میں سے کسی کا بھی سپورٹر نہیں ہے.

جہاں وہ والدین کے مقام کا خیال کرنے کا حکم دیتا ہے وہاں وہ اولاد کے جذبات کا استحصال کرنے کی اجازت بھی نہیں دیتا.

والدین کو قطعا یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے بے ہودہ غیر شرعی رواجوں یا زبردستی کے فیصلوں کے ساتھ بے جوڑ قسم کے رشتے کر کے اولاد کا مستقبل تباہ کریں..

اور نہ ہی اولاد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ والدین اور سارے خاندان کو پس پشت ڈال کر کھلی بغاوت کا ارتکاب کریں.

جہاں والدین کا مشورہ و سر پرستی ضروری ہے وہاں اولاد ( لڑکا لڑکی دونوں) کی پسند اور مرضی بھی ضروری ہے.

چونکہ ہمارا معاشرہ دین و دنیا دونوں طرف سے جاہل ہے اس لیے یہاں غلط فیصلے ہوتے ہی ہوتے اور ہونے ہی ہونے ہیں. جس کا حل یہ ہے کہ علماء کرام تحریک چلا کر والدین اور اولاد دونوں کو پابند کریں کہ وہ رشتوں میں تنازع کی صورت میں گہری بصیرت رکھنے والے علماء کرام سے رابطہ کریں اور وہ انہیں صحیح راستہ دکھائیں.

اس سلسلے میں ایک روایت ملاحظہ ہو..

ایک شخص نبی کریم صلی اللّٰه علیه و اله و سلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی؛

یا رسول الله! ہماری کفالت میں ایک یتیم لڑکی ہے، اس کے دو رشتے آئے ہیں جن میں سے ایک تنگ دست اور دوسرا خوش حال ہے ، اسے تنگ دست لڑکا پسند ہے اور ہمیں خوش حال! ( تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ )

رسول الله صلی اللّٰه علیه و اله و سلم نے فرمایا:

دو محبت کرنے والوں کے لیے نکاح کی مثل کوئی چیز نہیں۔

( اللمع في اسباب ورود الحديث : ص60 )