أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ءَاُلۡقِىَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۡۢ بَيۡنِنَا بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ‏ ۞

ترجمہ:

کیا ہم میں سے صرف ان ہی پر وحی نازل کی گئی ہے بلکہ وہ بہت بڑے جھوٹے، متکبر ہیں

اس کے بعد ثمود نے کہا : کیا ہم میں سے صرف ان ہی پر وحی نازل کی گئی ہے، یعنی آل ثمود میں صرف ان کو رسالت کے ساتھ خاص کرلیا گیا ہے، حالانکہ آل ثمود ( میں حضرت صالح) سے زیادہ خوش حال اور مال دار لوگ ہیں، پھر کہا : بلکہ وہ بہت بڑے جھوٹے اور متکبر ہیں۔ اس کا مطلب تھا کہ وہ اپنے دعویٰ کے مطابق رسول نہیں ہیں بلکہ وہ رسالت کا دعویٰ کر کے ناحق ہم پر اپنی بڑائی جتانا چاہتے ہیں۔ ” اشر “ کا معنی ہے : خوشی سے اترانے والا اور تکبر کرنے والا اور ایک قرأت میں لفظ ” اکثر “ ہے یعنی زیادہ شر والا اور خبیث۔

القرآن – سورۃ نمبر 54 القمر آیت نمبر 25