مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

رمضان آیا,شیطان بھاگا,انسانوں کا امتحان آیا

 

رمضان المبارک کے بابرکت مہینہ میں شیاطین کو قید میں ڈال دیا جاتا ہے,لیکن گیارہ ماہ تک شیاطین کا لشکر انسانوں کے ارد گرد گھومتا رہتا ہے اور انسانوں کو گناہوں کا عادی بنا دیتا ہے,لہذا بہت سے لوگ رمضان مقدس کے مہینے میں بھی گناہوں میں مبتلا رہتے ہیں۔

 

رمضان المبارک کا مہینہ ہمیں اہنے باطن کو جانچنے کا عمدہ موقع فراہم کرتا ہے۔اگر اس مقدس مہینے میں بھی کسی کا میلان گناہوں کی طرف ہو تو سمجھ لینا چاہئے کہ شیطان نے اسے گناہوں کا عادی بنا دیا ہے۔اسے اس مرض مہلک سے نجات کے لئے اللہ تعالی کی بارگاہ اقدس میں توبہ ورجوع کرنا چاہئے اور اپنے باطن کو پاکیزہ بنانے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے۔

 

ہر انسان پر اپنی اور اپنے ماتحت لوگوں کی اصلاح ضروری ہے۔ارشاد ربانی ہے:

 

(قوا انفسکم واہلیکم نارا)

 

اپنے آپ کو اور اپنے لوگوں کو جہنم سے بچاؤ۔

 

جہنم سے بچنے کی راہ یہی ہے کہ اللہ ورسول(عز وجل وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم)کی طاعت اختیار کی جائے اور نافرمانی سے پرہیز کیا جائے۔

 

حدیث نبوی میں ہے:(کلکم راع وکلکم مسؤل عن رعیتہ)(متفق علیہ)

 

ترجمہ:تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت(ما تحت لوگوں) کے بارے میں سوال ہو گا۔

 

طارق انور مصباحی

 

جاری کردہ:02:اپریل 2022