أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَقَالُـوۡۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِىۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ ۞

ترجمہ:

سو انہوں نے کہا : کیا ہم اپنی جنس میں سے ایک بشر کی پیروی کریں، بیشک پھر تو ہم ضرور گم راہی اور دیوانگی میں ہوں گے

ثمود حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم ہے، انہوں نے اپنے نبی کی تکذیب کی اور ان آیات کی تکذیب کی جن میں اللہ کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے اور یہ کہا کہ کیا ہم اپنی ہی جنس میں سے ایک بشر کی پیروی کریں اور اپنی پوری جماعت کے طریقہ کو چھوڑ دیں، پھر تو ہم ضروری گم راہی اور دیوانگی میں ہوں گے، کیونکہ صرف ایک شخص کے طریقہ پیروی کرنا اور کثیر جماعت کے طریقہ کو چھوڑ دینا یہی صحیح اور درست راستہ سے بھکٹنا اور پاگل پن ہے۔

اس آیت میں ” ضلال “ کے بعد ” سعر “ کا لفظ ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : ” سحر “ کا معنی جنون ہے، جو اونٹنی پاگل ہو اس کو ” ناقۃ مسعورۃ “ کہتے ہیں : نیز حضرت ابن عباس نے فرمایا :” سعر “ کا معنی عذاب ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 54 القمر آیت نمبر 24