أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِىۡ وَنُذُرِ ۞

ترجمہ:

پس کیسا تھا میرا عذاب اور کیسا تھا میرا ڈرائونا

القمر :21-22 میں فرمایا : پس کیا تھا میرا عذاب اور کیسا تھا میرا ڈرانا۔ اور ہم نے نصیحت کے حصول کے لئے قرآن کو آسان کردیا ہے تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا۔

رحمت کا غضب پر غالب ہونا

اس آیت کی تفسیر پہلے آچکی ہے، امام رازی نے یہاں ایک نکتہ بیان فرمایا ہے، وہ یہ ہے کہ ” نذر “ کا لف ” نذہر “ کی جمع ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے ڈرانے والے بہت بھیجے اور عذاب سے ڈرانے والے رسولوں کا بھیجنا اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے، پس جہاں رحمت کا ذکر ہے وہاں جمع کا صیغہ ہے اور جہاں عذاب کا لفظ ہے وہ واحد ہے، پس عذاب کو واحد کے صیغے کے ساتھ ذکر کرنے اور ” نذہر “ کو جمع کے صیغہ کے ساتھ ” نذر “ ذکر کرنے میں یہ نکتہ ہے کہ اس کا عذاب کم ہے اور اس کی رحمت بہت زیادہ ہے۔

اور اس کی رحمت اس کے عذاب پر غالب ہے ”“ جمع کا صیغہ ہے اور اس کا معنی نعمتیں ہیں اور اس آیت کا اللہ تعالیٰ نے سورة رحمن میں تیس بار ذکر کیا ہے اور عذاب کا ذکر اس صورت میں صرف دو آیتوں میں ہے : الرحمن :41 اور الرحمن :43 میں

اس رکوع میں حضرت نوع (علیہ السلام) کی قوم اور حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم کا مختصر ذکر ہے اور ان کا تفصیلی ذکر سورة ھود میں ہے، زیادہ تفصیل سے جاننے کے لئے سورة ھود کی تفسیر کا مطالعہ کریں۔

القرآن – سورۃ نمبر 54 القمر آیت نمبر 21