أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

كَذَّبَتۡ عَادٌ فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِىۡ وَنُذُرِ ۞

ترجمہ:

عاد نے تکذیب کی تو کیسا تھا میرا عذاب اور کیسا تھا میرا ڈرائونا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : عاد نے تکذیب کی تو کیسا تھا میرا عذاب اور کیسا تھا میرا ڈرانا۔ بیشک ہم نے ان پر تیز و تند مسلسل چلنے والی آندھی منحوس دن میں بھیجی۔ جو ان کو اٹھا کر زمین پر اس طرح مارتی تھی جیسے وہ جڑ سے کٹے ہوئے کھجور کے تنے ہیں۔ پس کیسا تھا میرا عذاب اور کیسا تھا میرا ڈرانا۔ اور ہم نے نصیحت کے حصول کے لئے قرآن کو آسان کردیا ہے، تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا۔ (18-22)

ھود کی قوم کے بجائے عاد کا ذکر کرنے کی کیا وجہ

القمر :18 میں فرمایا : عاد نے تکذیب کی اور یوں نہیں فرمایا کہ ہود کی قوم نے تکذیب کی، جیسے فرمایا تھا : نوح کی قوم نے تکذیب کی۔ (القمر :9، الشعرا 105) کیونکہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا کوئی علَم (نام) نہیں تھا، اس لئے اس قوم کی پہچان اور شناخت کے لئے اس کی حضرت نوع (علیہ السلام) کی طرف اضافت کی اور حضرت ھود (علیہ السلام) کی قوم کا علم (نام) عاد تھا اور علم سے جو تعریف اور پہچان حاصل ہوتی ہے وہ اضافت سے زیادہ قوی ہوتی ہے، مثلاً بیت اللہ کی بجائے کعبہ کہا جائے تو اس کی پہچان زیادہ قوی ہے، اسی طرح رسول اللہ کی جگہ (سیدنا) محمد ( (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کہا جائے تو اس کی شناخت زیادہ قوی ہے، اس لئے یوں نہیں فرمایا کہ ھود کی قوم نے تکذیب کی بلکہ فرمایا : عاد نے تکذیب کی۔

اسی طرح حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصہ میں فرمایا تھا : انہوں نے ہمارے بندے کی تکذیب کی، اس کی وجہ یہ ہے کہ یوں تو کفار نے اپنے اپنے زمانہ میں ہر نبی کی تکذیب کی ہے مگر حضرت نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کرنا زیادہ سنگین تھا، کیونکہ ان کی قوم مسلسل ساڑھے نو سو سال تک ان کی تکذیب کرتی رہی، دوسری وجہ یہ ہے کہ یہاں عاد کا قصہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے قصے کے مقابلہ میں قدرے اختصار کے ساتھ بیان فرمایا ہے اور دوسری مرتبہ جو فرمایا : تو کیسا تھا میرا عذاب اور کیسا تھا میرا ڈرانا اور یہ استفہام تعظیم کے لئے ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 54 القمر آیت نمبر 18