أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ يَّرَوۡا اٰيَةً يُّعۡرِضُوۡا وَيَقُوۡلُوۡا سِحۡرٌ مُّسۡتَمِرٌّ ۞

ترجمہ:

اور (کافر) اگر کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو پیٹھ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں : یہ تو وہ جادو ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے

مشرکین مکہ کا چاند کے دو ٹکڑوں کو دیکھ لینا

القمر : 2 میں فرمایا : اور کافر اگر کوئی نشانی دیکھتے ہیں، پیٹھ پھیر لیتے ہیں ْ

اس آیت کے اس حصہ میں یہ دلیل ہے کہ مشرکین نے چاند کے دو ٹکڑے دیکھ لئے تھے، جیسا کہ اس حدیث میں ہے :

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے، قریش نے کہا : یہ ابو کبشہ کے بیٹے کا جادو ہے، تم مسافروں سے سوال کرو، انہوں نے مسافروں سے سوال کیا تو انہوں نے کہا : ہاں ہم نے چاند کے دو ٹکڑے دیکھے ہیں

(مسند ابو دائود طیالسی رقم الحدیث 296) تب یہ آیت نازل ہوئی اور (کافر) اگر کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو پیٹھ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں : یہ تو جادو ہے جو پہلے سے چلا آرہا ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 54 القمر آیت نمبر 2