أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّفَجَّرۡنَا الۡاَرۡضَ عُيُوۡنًا فَالۡتَقَى الۡمَآءُ عَلٰٓى اَمۡرٍ قَدۡ قُدِرَ‌ۚ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے زمین سے چشمے جاری کردیئے سو دونوں پانی اس چیز کے لئے جمع ہوگئے جو ان کے عذاب کے لئے مقدر کی گئی تھی

طوفان اور کشتی کی بناوٹ کی کیفیت

القمر : 12 میں فرمایا : اور ہم نے زمین سے چشمے جاری کردیئے، سو دونوں پانی اس چیز کے لئے جمع ہوگئے جو ان (کے) عذاب کے لئے مقدر کی گئی تھی۔

اس آیت میں ” عیون “ کا لفظ ہے اس کا واحد ” عین “ ہے اور ” عین “ کا معنی آنکھ بھی ہے اور ” عین “ کا معنی چشمہ بھی ہے، یہاں اس سے مراد چشمہ ہے۔

اس آیت میں مراد یہ ہے کہ دونوں قسم کے پانی جمع ہوگئے بارش کا پانی اور چشموں کا پانی، اوپر بادلوں سے پانی برس رہا تھا، اور نیچے زمین سے چشمے ا ابل رہے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جو ان (کے عذاب) کے لئے مقدر کی گئی تھی، اس میں نجومیوں کا رد ہے، جنہوں نے یہ کہا تھا کہ ایک برج میں سات ستاروں کے جمع ہونے کی وجہ سے یہ عذاب آیا تھا۔

القرآن – سورۃ نمبر 54 القمر آیت نمبر 12