أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلرَّحۡمٰنُۙ ۞

ترجمہ:

رحمن نے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : رحمن نے (اپنے رسول مکرم) کو قرآن کی تعلیم دی۔ انسان (کامل کو پیدا کیا۔ اور ان کو (ہر چیز کے بیان کی تعلیم دی۔ (الرحمن :1-4)

رحمن کا معنی اور اس کا اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہونا

لفظ اللہ، اس ذات کا علم (نام) ہے جو واجب اور قدیم ہے اور تمام کائنات کا خالق اور رب اور مستحق عبادت ہے، بعض علماء نے کہا ہے کہ لفظ رحمن بھی اسی طرح اس ذات کا علم (نام) ہے، قرآن مجید میں ہے :

آپ کہیے کہ تم اللہ کو اللہ کہہ کر پکارو یا رحمن کہہ کر، تم اس کو جس نام سے پکارو اس کے سب نام اچھے ہیں۔ (بنی اسرائیل :110)

اور بعض علماء نے یہ کہا کہ الرحمن فی نفسہ صفت ہے، لیکن یہ لفظ اللہ کے ساتھ اس طرح مخصوص ہے کہ گویا اس کا نام ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور پر رحمن کا اطلاق کرنا جائز نہیں ہے، عبداللہ اور عبدالرحمان نام رکھنا مستحب ہے اور جس کا نام عبدالرحمان ہو اس کو خالی رحمان کہنا جائز نہیں ہے جس کا نام عبدالرحمن ہو بعض لوگ اس کو رحمان صاحب کہتے ہیں، یہ بھی اسی طرح جائز نہیں ہے، جس طرح کسی کو اللہ صاحب کہنا جائز نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ کی دو رحمتی ہیں، ایک رحمت سابقہ ہے اور ایک رحمت لاحقہ ہے، رحمت سابقہ کے تقاضے سے اس نے تمام مخلوق کو پیدا کیا اور رحمت لاحقہ کے تقاضے سے اس نے مخلوق کو پیدا کرنے کے بعد ان کو رزق دیا اور دوسری وہ تمام نعمتیں دیں جن کی وجہ سے مخلوق کا اس دنیا میں گزر بسر ہو سکے، اللہ تعالیٰ رحمت سابقہ کے اعتبار سے رحمن ہے اور رحمت لاحقہ کے اعتبار سے رحیم ہے، اور چونکہ مخلوق کو پیدا کرنے میں وہ منفرد ہے اور واحد لا شریک ہے اس لئے اس کا رحمان ہونا بھی منفرد ہے اور وہ رحمان ہونے میں واحد لاشریک ہے، اور اللہ کا معنی ہے : جو واجب اور قدیم ہو اور تمام مخلوق کی عبادت اور اطاعت کا مستحق ہو، اس اعتبار سے اللہ منفرد ہے اور واحد لا شریک ہے، اسی طرح رحمن کا معنی ہے۔ جس نے تمام مخلوق کو پیدا کیا اور اس اعتبار سے وہ رحمن ہونے میں منفرد ہے اور واحد لاشریک ہے، اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اللہ کہنا جائز ہے نہ رحمن کہنا جائز ہے اور چونکہ بعض نیک بندے بھوکوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور جو بےلباس ہوں ان کو لباس دیتے ہیں اور ضرورت مندوں کو خرچ دیتے ہیں، اس لئے ان کو رحیم کہنا جائز ہے، نیز رحمن کا معنی ہے : جو بالذت رحم کرے اور بلا غرض اور بلا عوض رحم کرے اور اللہ کے نیک بندے دنیا میں اپنی تحسین کی غرض سے یا آخرت میں ثواب کے عوض دیتے ہیں، بلا غرض اور بلا عوض نہیں دیتے، اس لئے وہ رحیم تو ہوسکتے ہیں، رحمن نہیں ہوسکتے، نیز رحمن میں رحیم کی بہ نسبت زیادہ حروف ہیں اس لئے رحمن میں رحیم کی بہ نسبت رحم کا زیادہ معنی ہے۔ ، اس لئے وہ دنیا میں کافروں اور مومنوں دونوں پر رحم فرماتا ہے اور آخرت میں صرف مومنوں پر رحم فرمائے گا۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ دنیا میں رحمن ہے اور آخرت میں رحیم ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 55 الرحمن آیت نمبر 1