أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ بِحُسۡبَانٍ ۞

ترجمہ:

سورج اور چاند ایک حساب سے چل رہے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سورج اور چاند ایک حساب سے چل رہے ہیں۔ اور زمین پر پھیلی ہوئی بیلیں اور اپنے تنے پر کھڑے ہوئے درخت سجدہ ریز ہیں۔ اور آسمان کو بلند بنایا اور (عدل کی) تراوز بنائی۔ تاکہ تم تولنے میں بےانصافی نہ کرو۔ (الرحمن :5-8)

سورج اور چاند کے حساب سے چلنے میں مفسرین کے اقوال

حضرت ابن عباس (رض) اور قتادہ اور ابو مالک نے کہا : سورج اور چاند اپنی اپنی مقررہ منازل میں ایک حساب سے چل رہے ہیں، وہ ان منازل سے تجاوز کرتے ہیں اور نہ ان سے انحراف کرتے ہیں۔

ابن زید اور ابن کیسان نے کہا : ان کی گردش اور ان کی رفتار سے اوقات، مدتوں اور عمروں کا حساب کیا جاتا ہے اور اگر دن اور رات نہ ہو اور سورج اور چاند نہ ہوں تو کوئی شخص نہیں جان سکتا کہ وہ کیسے حساب کرے گا۔

سدی نے کہا : وہ اپنی مدت کے حساب سے چل رہے ہیں جیسے لوگ اپنی مدت عمر کے حساب سے جیتے ہیں اور جب ان کی مدت پوری ہوجائے تو وہ ہلاک ہوجائیں گے، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

ہر ایک اپنی معیاد معین تک چل رہا ہے۔ (الرعد :3)

اس کی زیادہ تفصیل یٰسین 38 میں ملاحظہ فرمائیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 55 الرحمن آیت نمبر 5