أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَّا تَطۡغَوۡا فِى الۡمِيۡزَانِ ۞

ترجمہ:

تاکہ تم بولنے میں بےانصافی نہ کرو

طغیان کا معنی

الرحمن :8 میں فرمایا : تاکہ تم بولنے میں بےانصافی نہ کرو۔

اس آیت میں ” الاّ تطغوا “ کا لفظ ہے یہ ” طغیان “ سے بنا ہے اور ” طغیان “ کا معنی ہے : حد سے تجاوز کرنا، پس جس نے کہا ہے کہ میزان سے مراد عدل ہے تو اس کے نزدیک طغیان سے مراد عدل سے تجاوز کرنا اور بےانصافی ہے اور جس نے کہا : عدل سے مراد ترازو ہے تو طغیان سے مراد کم تولنا ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اس کا معنی ہے : جس کے لئے تم وزن کرو تو اس سے خیانت نہ کرو اور جس نے کہا میزان سے مراد حکم ہے تو اس کے نزدیک اس سے مراد تحریف ہے، یعنی اللہ کے احکام میں تحریف نہ کرو۔

القرآن – سورۃ نمبر 55 الرحمن آیت نمبر 8