أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍ‌ؕ نَّجَّيۡنٰهُمۡ بِسَحَرٍۙ ۞

ترجمہ:

بیشک ہم نے ان پر پتھر برسائے ماسوائے آل لوط کے، ہم نے ان کو سحری کے وقت بچالیا

القمر :34 میں فرمایا : بیشک ہم نے ان پر پتھر برسائے ماسوا آل لوط کے ہم نے ان کو سحری کے وقت بچا لیا۔

اس آیت میں ” حاصب “ کا لفظ ہے، جو ہری نے ” صحاح “ میں لکھا ہے : ” حاصب “ اس تیز ہوا کو کہتے ہیں جو کنکریاں برساتی ہے۔ (مختار الصحاح ص 94) یعنی پہلے ان کی بستیوں کو پلٹ دیا گیا پھر ان پر کنکریوں کی بارش ہوئی۔

اس آیت پر یہ اعتراض ہے کہ اس آیت سے پتا چلتا ہے کہ تیز ہوا نے ان پر کنکر برسائے اور دوسری آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے فرشتوں سے ان پر نشان زدہ پتھر برسوائے، یا بھجوائے، قرآن مجید میں ہے :

فرشتوں نے کہا : بیشک ہمیں ایک مجرم قوم کی طرف بھیجا گیا ہے۔ تاکہ ہم ان پر مٹی سے بنے ہوئے پتھر برسائیں۔ جو پتھر آپ کے رب کی طرف سے نشان زدہ ہیں (یہ) ان کے لئے ہیں جو حد سے گزر جانے والے ہیں۔ (الذّریت :32-34)

اس کا جواب یہ ہے کہ ہر وہ ہوا جو کنکریاں اڑاتی اور برساتی ہے اس کو ” حاصب “ کہا جاتا ہے، اس لئے اس آیت میں اس کا ہوا کی طرف اسناد فرمایا ہے اور چونکہ ہوا کو فرشتوں نے چلایا تھا اس لئے سورة الذّریت میں اس کا فرشتوں کی طرف اسناد فرمایا ہے اور وہ فرشتوں نے ہوا کی کنکریوں پر نشان لگا دئیے تھے اور ہر شخص پر اسی کے حصہ کی کنکری جا کر لگتی تھی۔

آل لوط سے مراد وہ لوگ ہیں جو حضرت لوط (علیہ السلام) کے دین پر تھے اور وہ صرف ان کی دو بیٹیاں تھی، اللہ تعالیٰ نے سحری کے وقت ان کو بچا لیا تھا اور وہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے ساتھ عذاب آنے سے پہلے اس بستی سے نکل گئی تھیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 54 القمر آیت نمبر 34