سحری کے وقت کے متعلق ایک غلط فہمی کا ازالہ

 

بعض لوگ سحری کے وقت آذان کے آخری لفظ تک کھاتے پیتے ہیں ان کا یہ عمل درست نہیں یعنی اذان تک سحری کھانا جائز نہیں ہے، جو لوگ ایسا کرتے ہیں ان کا روزہ نہیں ہوتا کیونکہ اذان سحری کا وقت ختم ہونے کے کچھ منٹ بعد ہوتی ہے۔اور روزہ وقت سے پہلے شروع کرنا چاہئے نہ کہ وقت کے بعد.

 

سحری کا وقت ختم ہونے کے سلسلے میں اس کے احکامات کا خلاصہ ذکر کردینا مناسب معلوم ہوا۔

.

(1)۔اللہ تبارک و تعالی نے سورت بقرہ آیت نمبر 187میں فرمایا :

كُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ.

ترجمہ:’’اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمہارے لئے فجر سے سفیدی (صبح) کا ڈورا سیاہی(رات) کے ڈورے سے ممتاز ہوجائے.” یہاں آیت میں سفید اور سیاہ ڈورے کا تذکرہ ہے۔ اس سے رات کو سیاہ ڈورے سے اور صبح صادق کو سفید ڈورے سے تشبیہ دی گئی ہے اور معنی یہ ہیں کہ تمہارے لیے کھانا پینا رمضان کی راتوں میں مغرب سے صبح صادق تک جائز کردیا گیا۔

اس آیت میں بالخصوص سحری کے ختم ہونے کا وقت بتایا گیا ہے اور اس کی تفسیر کرتےہوئےمفسرین نے’’الخیط الابیض‘‘ سے مراد صبح کاذب اور ’’الخیط الاسود‘‘ سے مراد صبح صادق بتایاہے، معلوم ہواکہ اللہ تبارک وتعالی نے اس آیت میں سحری کےختم ہونے کا وقت طلوعِ صبح صادق بتایاہے۔

.

مفسرین نے اسی آیت کی تفسیرمیں مزید واضح کیا کہ فجر کی دو قسمیں ہیں:

1.فجرِ کاذب یا صبح کاذب:وہ روشنی جوآسمانِ افق میں بلندی کی طرف (طولاً)نظرآتی ہےاور اس کے طلوع ہونے سے نہ تو رات ختم ہوتی ہے،نہ نماز فجر جائز ہے اور نہ ہی روزہ دار پرکھانا پینا حرام ہوتا ہے۔

 

2.فجرِ صادق یا صبح صادق:وہ روشنی جو آسمانِ افق پر(عرضا) نظر آئے،اور اس کے طلوع ہونے سےرات ختم ہو کر دن شروع ہو جاتا ہے، سحری کا وقت ختم کر روزہ دار پر کھانا پینا حرام ہوجاتا ہے اورنماز فجر کا وقت شروع ہو جاتی ہے صاحبِ تفسیرِمنیر لکھتے ہیں کہ جو شخص صبح صادق طلوع ہونے کے بعد تک سحری کرتا رہا توائمہِ اربعہ کا اتفاق ہے کہ اس شخص پر اس روزہ کی قضاء واجب ہے۔

 

لہذامعلوم ہوا کہ:

.

*سحری کا اختتامی وقت ’’طلوعِ صبحِ صادق‘‘ہے نہ کی اذانِ فجر،اس لئےاذانِ فجر تک کھانا پینا درست نہیں ہے کیونکہ ہمارے ہاں رمضان میں عموماً صبح صادق طلوع ہونے کے چند منٹ بعد فجر کی اذان دی جاتی ہے، اس لئے بہتر اور احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ صبح صادق طلوع ہونےسے بھی تقریباً دو،چار منٹ پہلے کھانے پینے سے مکمل طور پر رک جانا چاہئے۔

.

* سب سے بہتر یہ ہے کہ اپنے شہر کے کسی معتبر دینی ادارے کا سحری و افطاری کا نقشہ لے لیا جائے اور اسی کے مطابق سحری و افطاری کی جائے،کیونکہ عوام کیلئے اپنے مشاہدہ سے صبح کاذب وصادق کا اندازہ لگانا تقریبا ناممکن ہے۔

 

*اگر معمول کے مطابق مسجد میں اذان سحری کا وقت ختم ہونے کے بعد ہوئی ہے تو ایسی صورت میں اذان تک کھانا جائز نہیں ، بلکہ سحری کا وقت ختم ہونے کے بعد اذان تک کھانے کی صورت میں وہ روزہ ہی نہ ہوگا اور اس روزہ کی قضاء کرنا لازم ہوگا۔

 

منقول مع اضافہ و ترمیم

ابو الحسن