أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عَلَّمَهُ الۡبَيَانَ ۞

ترجمہ:

اور ان کو (ہر چیز کے) بیان کی تعلیم دی

” انسان “ اور ” بیان “ کے محامل

الرحمن :3-4 میں فرمایا : انسان (کامل) کو پیدا کیا۔ اور ان کو (ہر چیز کے) بیان کی تعلیم دی۔

حضرت ابن عباس (رض) ، قتادہ اور حسن نے بیان کیا : یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور ان کو ہر چیز کے اسماء کی تعلیم دی، اور ایک قول ہے : ان کو تمام لغات سکھا دیں، نیز حضرت ابن عباس اور ابن کیسان سے روایت ہے کہ انسان سے مراد یہاں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور بیان سے مراد : حلال اور حرام کا بیان اور ہدایت کا گم راہی سے بیان، ایک قول ہے : اس ط سے مراد ہے : ” ما کان ومایکون “ کا بیان کیونکہ آپ نے تمام اولین اور آخرین اور روز قیامت کی خبریں دی ہیں، ضحاک نے کہا : اس سے مراد ہے : خیر اور شر کا بیان، ربیع بن انس نے کہا : نفع دینے والی اور نقصان دینے والی چیزوں کا بیان۔

ایک قول یہ ہے کہ ” الانسان “ سے مراد ہے : جنس اور انسان اور اس سے تمام انسان مراد ہیں اور اس تدقیر پر بیان سے مراد ہے : کلام کرنا اور سمجھنا اور اسی خصوصیت کی بناء پر انسان کو تمام جانداروں پر فضلیت دی گئی ہے۔ سدی نے کہا : ہر قوم کو اس کی زبان سکھا دی جس زبان وہ بات کرتی ہے اور اس کی نظیر یہ آیات ہیں :

قلم سے لکھنا سکھایا۔ انسان (کامل) کو وہ سب سکھا دیا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ (العلق :4-5)

(الکشف و البیان ج 9 ص 177، الجامع الاحکام القرآن جز 17 ص 141، فتح القدیر للشوکانی ج 5 ص 174 فتح البیان ج 6 ص 494-493)

القرآن – سورۃ نمبر 55 الرحمن آیت نمبر 4