أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَؕ ۞

ترجمہ:

اپنے (رسول مکرم کو) قرآن کی تعلیم دی

رحمن نے جس کو قرآن کی تعلیم دی، اس کے محامل

الرحمن : 2 میں فرمایا : رحمن نے قرآن کی تعلیم دی۔

” عَلّم “ فعل متعدی ہے اور اس کا معنی اس وقت مکمل ہوگا جب اس کے مفعول کا ذکر کیا جائے کہ رحمن نے کس کو قرآن کی تعلیم دی، مفسرین نے اس کے حسب ذیل محامل ذکر کئے ہیں :

(1) علامہ الماوردی المتوفی 450 ھ علامہ ابن جوزی المتوفی 597 ھ، امام رازی متوفی 606 ھ، علامہ قرطبی متوفی 668 ھ، علامہ ابو الحیان اندلسی المتوفی 754 ھ اور علامہ آلوسی متوفی 1270 ھ نے لکھا ہے : اس سے مراد ہے : رحمن نے سید محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قرآن کی تعلیم دی اور آپ نے اپنی تمام امت کو اس کی تبلیغ کی۔

(2) دوسرا محمل یہ ہے کہ رحمن نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے واسطے سے تمام مسلمانوں کو قرآن کی تعلیم دی۔

(النکت و العیون ج 5 ص 423، زاد المسیرج 8 ص 106 تفسیر کبیرج 10 ص 337، الجامع الاحکام القرآن جز 17 ص 140 البحرالمحیط ج 10 ص 54، روح المعانی جز 27 ص 150)

نیز علامہ قرطبی مالکی لکھتے ہیں : یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب مشرکین نے کہا : رحمن کیا چیز ہے ؟ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب اہل مکہ نے کہا کہ (سیدنا) محمد ( (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کو ایک بشر تعلیم دیتا ہے اور وہ یمامہ کا رحمان ہے، اس سے ان کی مراد مسلیمہ کذاب تھی، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں :۔

زجاج نے کہا : اس آیت کا معنی ہے، رحمن نے یاد کرنے کے لئے اور پڑھنے کے لئے قرآن کو آسان کردیا ہے، جیسا کہ فرمایا ہے : (القمر :17)

القرآن – سورۃ نمبر 55 الرحمن آیت نمبر 2