أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّالنَّجۡمُ وَالشَّجَرُ يَسۡجُدٰنِ ۞

ترجمہ:

اور زمین پر پھیلی ہوئی بیلیں اور اپنے تنے پر کھڑے ہوئے درخت سجدہ ریز ہیں

” النجم “ سے مراد بیلیں ہیں یا ستارے اور ان کے سجدہ کرنے کی توجیہ

الرحمن :6 میں فرمایا : اور زمین پر پھیلی ہوئی بیلیں اور اپنے تنے پر کھڑے ہوئے درخت سجدہ ریز ہیں۔

حضرت ابن عباس نے فرمایا : نجم ان نباتات کو کہتے ہیں جن کا تنا نہ ہو، جیسے انگور، خربوزے اور تربوز کی بیلیں۔

” نجم ینجم “ کا معنی ظاہر ہونا اور طلوع ہونا ہے اور ان کے سجدہ کرنے سے مراد ان کے سایوں کا سجدہ کرنا ہے۔ فّراء نے کہا : جب سورج طلوع ہوتا ہے تو درختوں اور بیلوں کا منہ سورج کی طرف ہوتا ہے، پھر ان کے سائے ان کے ساتھ ساتھ گھومتے رہتے ہیں۔

حسن اور مجاہد نے کہا : اس آیت میں نجم سے مراد آسمان کے ستارے ہیں اور ستاروں کے سجدوں سے مراد ان کا غروب ہونا ہے، درخت کے سجدہ کرنے سے مراد ان کے پھلوں کا جھکنا ہے۔

ایک قول یہ ہے کہ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے مسخر کی ہوئی ہیں، سو تم نہ صابئین کی طرح ستاروں کی پرستش کرو اور نہ ہندوئوں کی طرح درختوں کی عبادت کرو۔

امام قشیری نے کہا : سجود سے مراد خضوع اور عاجزی کا اظہار ہے اور یہ حادث ہونے کی علامت ہے۔

الخاس نے کہا : سجود کا اصل معنی اطاعت ہے اور فرماں برداری ہے اور اس کے حکم کے سامنے سراطاعت خم کرنا ہے اور تمام جمادات اور نباتات اس کے احکام کی تعمیل کر رہے ہیں، اسی طرح حیوانات بھی غیر اختیاری طور پر اس کی اطاعت کر رہے ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 55 الرحمن آیت نمبر 6