أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَوۡمَ يُسۡحَبُوۡنَ فِى النَّارِ عَلٰى وُجُوۡهِهِمۡؕ ذُوۡقُوۡا مَسَّ سَقَرَ ۞

ترجمہ:

جس دن ان کو دوزخ میں اوندھا گھسیٹا جائے گا، (اور کہا جائے گا ؛ ) دوزخ کا عذاب چکھو

القمر :48 میں فرمایا : جس دن ان کو دوزخ میں اوندھا گھسیٹا جائے گا (اور کہا جائے گا) دوزخ کا عذاب چکھو۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ مشرکین قریش رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تقدیر کے متعلق بحث کرتے ہوئے آئے، اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں (ترجمہ) بیشک مجرمین گمراہی اور عذاب میں ہیں۔ جس دن ان کو دوزخ میں اوندھا گھسیٹا جائے گا (اور کہا جائے گا) دوزخ کا عذاب چکھو۔ بیشک ہم نے ہر چیز اندازے سے بنائی ہے۔ (القمر 47-49)

(صحیح مسلم رقم الحدیث 2656، سنن رقم الحدیث 2157-3290، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 83)

علامہ یحییٰ بن شرف نووی متوفی 676 ھ لکھتے ہیں :

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر چیز تقدیر سے ہے، حتیٰ کہ عاجز ہونا اور قادر بھی تقدیر سے ہے۔ ” صحیح مسلم “ رقم الحدیث 2655 اور اس آیت میں بھی ہے۔ (ترجمہ) بیشک ہم نے ہر چیز کو تقدیر (اندازہ) کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ (القمر :49)

اور اس آیت میں قدر (اندازہ) سے مراد معروف تقدیر ہے اور یہ وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مقدر کردیا اور اس کا فیصلہ کردیا اور اس کا علم اور ارادہ اس چیز پر مقدم ہے اور اس آیت اور اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ تقدیر کا تعلق ہر چیز کے ساتھ ہے اور ہر چیز ازل میں اللہ تعالیٰ کو معلوم تھی اور اس نے اس کا ارادہ کیا ہوا تھا۔

(شرح نواوی علی صحیح مسلم ج 10 ص 6713، م کتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، 1417 ھ)

تقدیر کے متعلق علماء اہل سنت کے اقوال

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں :

اہل سنت کا یہ مذہب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اشیاء کو مقدر فرمایا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کو اشیاء کے بنانے سے پہلے اس کی مقدار اور اس کے احوال کا علم تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازل کے موافق اس چیز کو پیدا کیا، پس عالم علوی اور سفلی میں ہر چیز اس کے علم، اس کی قدرت اور اس کے ارادہ سے صادر ہوتی ہے اور اس میں مخلوق کو کوئی دخل نہیں ہے اور مخلوق کو صرف ایک قسم کا کسب حاصل ہوتا ہے اور مخلوق جو کسب کرتی ہے اور کام انجام دیتی ہے وہ ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی توفیق، اس کی قدرت اور اس کے الہام سے حاصل ہوتا ہے اور اللہ سبحانہ کے سوا اور کوئی خالق نہیں ہے، جیسا کہ قرآن اور سنت میں اس کی تصریح ہے اور منکرین تقدیر کا یہ قول باطل ہے کہ اعمال کو ہم خلق کرتے ہیں اور ہماری اجل اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

(الجامع الاحکام القرآن جز 17 ص 135، دارالکفر بیروت، 1415 ھ)

قاضی عبداللہ بن عمر بیضاوی متوفی 685 ھ لکھتے ہیں :

یعنی ہم نے ہر چیز کو تقدیر (اندازے) سے حکمت کے تقاضے پر مرتب کر کے پیدا کیا ہے یا ہر چیز کو اس کے وقوع سے پہلے لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے اور مقدر کردیا ہے۔ (تفسیر بیضاوی مع عنایۃ القاضی ج 9 ص 40، دارالکتب العلمیہ، بیروت 1417 ھ )

علامہ عصام الدین اسماعیل بن محمود القونوی الحنفی المتوفی 1195 ھ میں اس عبارت کی شرح میں لکھتے ہیں :

کیونکہ مخلوق اس معین اندازہ پر مبنی ہے جو اس کی حکمت کا تقاضا ہے جس حکمت پر تخلیق موقوف ہے اور یہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہے کیونکہ علم کلام میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اپنی تخلیق میں حکمت کی رعایت رکھی ہے لیکن حکمت کی رعایت اس پر واجب نہیں ہے اور یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ حکمت اور مصلحت ہمیں معلوم ہو، کیونکہ ہمیں معلوم نہیں کہ کفار کو پیدا کرنے میں کیا مصلحت اور بدکاروں کے لئے دوزخ کو پیدا کرنے میں کیا مصلحت ہے، پس کفار اور دوزخ کو پیدا کرنے میں ضرور کوئی مصلحت ہے خواہ ہم کو وہ مصلحت معلوم نہیں ہے۔

علامہ بیضاوی کی دوسری عبارت کا حاصل یہ ہے کہ ہر چیز کے واقع ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے، پس مجرموں کی سزا کے متعلق بھی اس میں لکھا ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بتانے سے ہمیں اس کا علم بھی ہے لیکن محض اس کے علم کی وجہ سے ان پر سزا واجب نہیں ہوگی، سزا تب واجب ہوگی جب وہ مجرم پیدا ہوجائیں گے اور اپنے اختیار سے کفر اور گناہ کبیرہ کریں گے ان کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے علم کا تعلق قدیم ہے اور ان کے افعال کے وقوع کے ساتھ تعلق ہے۔ (حاشیۃ القونوی علی البیضاوی ج 18 ص 339، دارالکتب العمیہ، بیروت 1422 ھ)

تقدیر کے متعلق احادیث

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس امت کے مجوس وہ لوگ ہیں جو اللہ کی تقدیر کا انکار کرتے ہیں، اگر وہ بیمار ہوں تو تم ان کی عیادت نہ کرنا اور اگر وہ مرجائیں تو تم ان کے جنازہ پر نہ جانا اور اگر تمہاری ان سے ملاقات ہو تو تم ان کو سلام نہ کرنا۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 92)

اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔

حضرت ابن عباس اور حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت کے دو فرقے ایسے ہیں کہ ان کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے : مرجہ اور قدریہ۔

(سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 73، سنن ترمذی رقم الحدیث 2149، اس حدیث کی سند بھی ضعیف ہے۔ )

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو لوگ کہتے ہیں کہ نیکی اور بدی ہمارے اختیار میں ہے ان کو میری شفاعت سے کوئی حصہ نہیں ملے گا، نہ میں ان سے ہوں اور نہ وہ مجھ سے ہیں۔

(الفردوس بماثور الخطاب رقم الحدیث 4706، الکامل لابن عدی ج 3 ص 388، اس حدیث کی سند غیر محفوظ ہے)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا : جس چیز پر عبداللہ بن عمر قسم کھاتا ہے، وہ یہ ہے کہ اگر ان لوگوں کے پاس احد پہاڑ جتنا سونا ہو اور وہ اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کریں تو اللہ تعالیٰ اس کو اس وقت تک قبول نہیں کرے گا جب تک کہ وہ تقدیر پر ایمان نہ لے آئیں۔ ( صحیح مسلم رقم الحدیث 8)

اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے، اس کو ہمیں پیدا کرنے سے پہلے علم تھا کہ ہم اپنے اختیار اور ارادہ سے نیک کام کریں گے یا برے کام کریں گے، اسی اعتبار سے وہ ہم کو جزاء یا سزا دے گا، اس کے اسی علم سابق کا نام تقدیر ہے، گھڑی کا سیل بنانے والے انجیئر کو پیشگی علم ہوتا ہے یہ سیل کتنی مدت تک کارآمد ہے اور اتنی مدت گزرنے کے بعد وہ سیل ختم ہوجاتا ہے اور دوا بنانے والے کیمسٹ کو پیشگی علم ہوتا ہے کہ یہ دوا کتنے عرصے تک کارآمد رہے گی اور اس کی دوا کی شیشی پر اسی اعتبار سے اس کی معیاد ختم ہونے کی تاریخ لکھ دی جاتی ہے تو جب انجینئر کو سیل کی مدت کار کا پیشگی علم ہوسکتا ہے اور دوا بنانے والے کیمسٹ کو اس دوا کی مدت کار کا پیشگی علم ہوسکتا ہے، تو خالق کائنات کو اس کائنات بنانے سے پہلے اس کا پیشگی علم کیوں نہیں ہوگا ؟

مسئلہ تقدیر پر بہت شرح وبسط کے ساتھ ہم نے ” شرح صحیح مسلم “ ج 7 ص 260-269 میں لکھا ہے اور مسئلہ جبر و قدر پر بہت تفصیل کے ساتھ ہم نے الرعد 16 کی تفسیر میں ” بتیان القرآن “ ج 6 ص 71-76 میں لکھا ہے جو قارئین اس مسئلہ کے تمام پہلوئوں پر بحث دیکھنا چاہیں وہ ان مقامات کا مطالعہ کریں۔

القرآن – سورۃ نمبر 54 القمر آیت نمبر 48