وَ مَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّ لَعِبٌؕ-وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُۘ-لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ(۶۴)

اور یہ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کود (ف۱۴۹) اور بےشک آخرت کا گھر ضرور وہی سچّی زندگی ہے (ف۱۵۰) کیا اچھا تھا اگر جانتے (ف۱۵۱)

(ف149)

کہ جیسے بچّے گھڑی بھر کھیلتے ہیں کھیل میں دل لگاتے ہیں پھر اس سب کو چھوڑ کر چل دیتے ہیں یہی حال دنیا کا ہے نہایت سریع الزوال ہے اور موت یہاں سے ایسا ہی جدا کر دیتی ہے جیسے کھیل والے بچّے منتشر ہو جاتے ہیں ۔

(ف150)

کہ وہ زندگی پائیدار ہے ، دائمی ہے ، اس میں موت نہیں ، زندگانی کہلانے کے لائق وہی ہے ۔

(ف151)

دنیا اور آخرت کی حقیقت ، تو دنیائے فانی کو آخرت کی جاودانی زندگی پر ترجیح نہ دیتے ۔

فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَﳛ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَۙ(۶۵)

پھر جب کشتی میں سوار ہوتے ہیں (ف۱۵۲) اللہ کو پکارتے ہیں ایک اسی پر عقیدہ لاکر (ف۱۵۳) پھر جب وہ انہیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے (ف۱۵۴) جبھی شرک کرنے لگتے ہیں (ف۱۵۵)

(ف152)

اور ڈوبنے کا اندیشہ ہوتا ہے تو باوجود اپنے شرک و عناد کے بُتوں کو نہیں پکارتے بلکہ ۔

(ف153)

کہ اس مصیبت سے نَجات وہی دے گا ۔

(ف154)

اور ڈوبنے کا اندیشہ اور پریشانی جاتی رہتی ہے اطمینان حاصل ہوتا ہے ۔

(ف155)

زمانۂ جاہلیّت کے لوگ بحری سفر کرتے وقت بُتوں کوساتھ لے جاتے تھے جب ہوا مخالف چلتی اور کَشتی خطرہ میں آتی تو بُتوں کو دریا میں پھینک دیتے اور یاربّ یاربّ پکارنے لگتے اور امن پانے کے بعد پھر اسی شرک کی طرف لوٹ جاتے ۔

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ ﳐ وَ لِیَتَمَتَّعُوْاٙ-فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ(۶۶)

کہ ناشکری کریں ہماری دی ہوئی نعمت کی (ف۱۵۶) اور برتیں (ف۱۵۷) تو اب جانا چاہتے ہیں(ف۱۵۸)

(ف156)

یعنی اس مصیبت سے نَجات کی ۔

(ف157)

اور اس سے فائدہ اٹھائیں بخلاف مومنینِ مخلصین کے کہ وہ اللہ تعالٰی کی نعمتوں کے اخلاص کے ساتھ شکر گزار رہتے ہیں اور جب ایسی صورت پیش آتی ہے اور اللہ تعالٰی اس سے رہائی دیتا ہے تو اس کی اطاعت میں اور زیادہ سرگرم ہو جاتے ہیں مگر کافِروں کا حال اس کے بالکل برخلاف ہے ۔

(ف158)

نتیجہ اپنے کردار کا ۔

اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْؕ-اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَكْفُرُوْنَ(۶۷)

اور کیا اُنہوں نے (ف۱۵۹) یہ نہ دیکھا کہ ہم نے (ف۱۶۰) حرمت والی زمین پناہ بنائی (ف۱۶۱) اور اُن کے آس پاس والے لوگ اُچک لیے جاتے ہیں (ف۱۶۲) تو کیا باطل پر یقین لاتے ہیں (ف۱۶۳) اور اللہ کی دی ہوئی نعمت سے (ف۱۶۴) ناشکری کرتے ہیں ۔

(ف159)

یعنی اہلِ مکّہ نے ۔

(ف160)

ان کے شہر مکّۂ مکرّمہ کی ۔

(ف161)

ان کے لئے جو اس میں ہوں ۔

(ف162)

قتل کئے جاتے ہیں گرفتار کئے جاتے ہیں ۔

(ف163)

یعنی بُتوں پر ۔

(ف164)

یعنی سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے اور اسلام سے کُفر کر کے ۔

وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهٗؕ-اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ(۶۸)

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۱۶۵) یا حق کو جھٹلائے (ف۱۶۶) جب وہ اس کے پاس آئے کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانا نہیں (ف۱۶۷)

(ف165)

اس کے لئے شریک ٹھہرائے ۔

(ف166)

سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نبوّت اور قرآن کو نہ مانے ۔

(ف167)

بے شک تمام کافِروں کا ٹھکانا جہنّم ہی ہے ۔

وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَاؕ-وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۠(۶۹)

اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھادیں گے (ف۱۶۸) اور بےشک اللہ نیکوں کے ساتھ ہے (ف۱۶۹)

(ف168)

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ معنٰی یہ ہیں کہ جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ہم انہیں ثواب کی راہ دیں گے ۔ حضرت جنید نے فرمایا جو توبہ میں کوشش کریں گے انہیں اخلاص کی راہ دیں گے ۔ حضرت فضیل بن عیاض نے فرمایا جو طلبِ علم میں کوشش کریں گے انہیں ہم عمل کی راہ دیں گے ۔ حضرت سعد بن عبداللہ نے فرمایا جو اقامتِ سنّت میں کوشش کریں گے ہم انہیں جنّت کی راہ دکھا دیں گے ۔

(ف169)

ان کی مدد اور نصرت فرماتا ہے ۔