آج صبح دبئی (متحدہ عرب امارات) کے ایک اسپتال جانا ہوا، میڈیکل ٹیسٹ کے لیے بعض لوگ خون کے نمونے دے رہے تھے، ان میں کچھ مسلمان بھی تھے۔ بعض نے خون کا نمونہ دینے کے بعد پانی پینا شروع کر دیا۔ حالانکہ ٹیسٹ کے لیے لیا جانے والا خون فقط دو چار ملی لیٹر ہی ہوتا ہے اور اس سے صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دو ہندوستانی مسلمانوں سے بات ہوئی تو انہوں نے جواباً کہا خون دینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اس لیے ہم پانی پی رہے ہیں۔ سیمپل کولیکشن کاونٹر پر موجود سٹاف بھی شمال افریقی مسلمان تھا، اس نے بھی سمجھانا ضروری نہ سمجھا۔

 

انسان علمی، سائنسی اور جدید علوم کی ترقیوں کے نقطہ عروج پر ہے لیکن افسوس مسلمان اپنے دین سے متعلق فرض علوم بھی نہ سیکھ سکے۔ ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کے روزے، نکاح، عمرہ اور حج جیسے حساس و اہم معاملات و عبادات جہالت کی وجہ سے فاسد ہو جاتے ہیں۔ ہم کس قدر غافل و بے باک ہیں کہ پوری زندگی بیت گئی، پوری رفتار کے ساتھ زندگی کا پہیہ بھاگتا جا رہا ہے لیکن دینی معاملات میں ہم سکتے اور جمود کا شکار ہیں۔ ہم نے سب کچھ سیکھ لیا، لیکن دین نہ سیکھا۔

اس رمضان کم از کم فرض علوم تو سیکھ لیں اگر روزانہ فرض علم کا ایک باب بھی پڑھیں تو رمضان کے اختتام تک آپ بھرپور علوم جان چکے ہوں گے۔

دعوت اسلامی نے تسہیل و تخریج کے ساتھ بہار شریعت چھے حصوں مین شائع کی ہے۔ کم از کم عقائد اور عبادات تو ضرور ہی پڑھ لیں اور اگر اپنی مسجد کے امام صاحب کے پاس جا کر سبقاً پڑھ لیں تو نور علی نور۔

افتخار الحسن رضوی

۳ رمضان المبارک ۱۴۴۳ بمطابق ۴ اپریل ۲۰۲۲