حدیث کے اردو ترجمہ سے مسائل اخذ کرنے والے اس دور کے فکری “بونے” سنن ابی داود کی یہ حدیث پیش کرکے مسلمانوں کے روزے برباد کر رہے ہیں کہ

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:
تم میں سے کوئی جب صبح کی ندا (اذان) سنے اور (کھانے،پینے) کا برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اسے اپنی ضرورت پوری کئے بغیر نہ رکھے‘‘

حالانکہ جمہور اہل علم کے نزدیک اس حدیث کا تعلق اس اذان کے ساتھ ہے جو فجر کا وقت شروع ہونے سے پہلے دی جاتی تھی دراصل نبی کریم ﷺ کے مبارک زمانے میں دو اذانوں کا رواج رہا؛ ایک فجر کا وقت شروع ہونے سے پہلے جو حضرت بلال رضی اللہ عنہ دیتے تھے اور دوسری فجر کا وقت شروع ہونے کے بعد جو حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ دیتے تھے۔

ان فکری بونوں کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ ایک حدیث دیکھتے ہیں اور اپنا لولا لنگڑا ’’اجتہاد‘‘ عوام پر مسلط کر دیتے ہیں حالانکہ بخاری ومسلم میں سنن ابی داود کی اس حدیث کی وضاحت موجود ہے، نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: إنَّ بِلالاً يُؤَذِّن بِلَيلٍ، فَكُلُوا واشرَبُوا حتَّى تَسمَعُوا أَذَان ابنِ أُمِّ مَكتُوم ’’بلال رات کو اذان دیتے ہیں۔ چنانچہ تم کھاؤ پیو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سن لو۔‘‘