أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فِيۡهَا فَاكِهَةٌ ۖ ۙ وَّالنَّخۡلُ ذَاتُ الۡاَكۡمَامِ‌ ۞

ترجمہ:

اس میں پھل ہیں اور (قدرتی) غلاف والی کھجوریں ہیں

اور فرمایا : اس میں ” فاکھۃ “ ہیں ” فاکھۃ “ کھانے کی اس چیز کو کہتے ہیں جس کو انسان پیٹ بھرن کے بجائے لذت کے لئے کھاتا ہے اور اس میں ” اکمال “ کا لفظ ہے یہ لفظ ” کِمّ “ کی جمع ہے، جوہری نے کہا ہے کہ ” کِمّ “ اور کمامۃ “ پھلوں کے شگوفوں کا غلاف اور ظرف ہے اور اس کی جمع ” اکمام “ ہے (مختار الصحاح ص 337)

القرآن – سورۃ نمبر 55 الرحمن آیت نمبر 11