{مسجدوں میں غیر مُسلموں کا چندہ}

مسجدوں میں غیر مسلموں کا چندہ قبول کرنا درست نہیں اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے :ماکان للمشرکین ان یعمروا مساجد اﷲ(التوبہ)

مشہور مفسر خازن نے اس کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے:

واختلفوافی المرادبا لعمادۃ علیٰ قولین احد ھما ان المراد بالعمارۃ العمارۃ المعروفۃ من بناء المسجد وتشیید ھا ومرمتھا عند خرابھا فیمنع من الکافر حتی لواوصیٰ بناء مسجد لم تقبل وصیتہٗ۔

ترجمہ:عمارت سے کیا مراد ہے ۔اس میں مفسرین کے دو قول ہیں،ایک یہ کہ عمارت سے تعمیر یعنی مسجد بنانا اور اس کو پختہ کرنا اور مرمت طلب ہونے پر مرمت کرنا وغیرہ مراد ہے لہٰذا کافر کیلئے یہ چیزیں ممنوع ہوگی۔یہاں تک کہ اگر وہ کسی مسجد کی تعمیر کی وصیت بھی کرجائے تو اس کی وصیت قبول نہ ہوگی۔

نیز علامہ شامی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ دو شرطوں کے ساتھ مسجدوں میں کافروں کی اعانت قبول کرنا درست ہے ،اول یہ کہ وہ ثواب کی نیت سے دے،دوسرے خود اس کے مذہب میں بھی اس کی حیثیت قربت اور ثواب ہی کی ہو،چنانچہ عیسائیوں کاوقف بیت المقدس کیلئے درست ہے کیونکہ وہ بھی مذہبی حیثیت سے اس کی اہمیت و عظمت تسلیم کرتے ہیں اور خانہ کعبہ میں لگانا درست نہیں کیونکہ وہ اس کو بیت اﷲ نہیں سمجھتے۔