أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَرَجَ الۡبَحۡرَيۡنِ يَلۡتَقِيٰنِۙ ۞

ترجمہ:

اس نے (کھاری اور شیریں) سمندر جاری کئے (جو ایک دوسرے سے) مل جاتے ہیں

دو سمندروں کو ملانے میں اللہ تعالیٰ کی نعمت

الرحمن :19-21 میں فرمایا : اس نے (کھاری اور شیریں) دو سمندر جاری کئے ہیں جو (ایک دوسرے) سے مل جاتے ہیں۔ ان دونوں کے درمیان ایک آڑ ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے۔ سو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے۔

یعنی ان دونوں سمندروں کے پانی ایک دوسرے سے نہیں ملتے اور اپنی حد سے تجاوز نہیں کرتے اور نہ ایک پانی کا ذائق دوسرے پانی سے مختلف ہوتا ہے یہ دو سمندر ایک بحر روم ہے اور ایک بحر فارس ہے اور ایک قول ہے کہ دوسرا بحر ہند ہے اور ان کے درمیان جو آڑ ہے وہ جزیرہ عرب ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان دو سمندروں کو مخلوق کی منفعت کے لئے پیدا فرمایا ہے،