ہر خوبصورت عورت آپ کی بیوی بننے کی اہل نہیں ہوتی!

ہمارے ایک تُرک دوست کو ایک عرب خاتون بھا گئی۔ اس پسند کے پیچھے بھی ہماری تبلیغ ہی کارفرما تھی۔ میوزک سکول چھوڑ کر وہ دین کی طرف آیا تھا اور پھر مراقبے، تزکیے و تصفیے کے مراحل طے کرنے شروع کر دیے۔ ایسنیورت سے ایوب سلطان منتقل ہو گیا تاکہ پنج وقتہ نمازیں میزبان رسول ﷺ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی مسجد میں ادا کر سکے۔ اب اس کی ضد تھی کہ میری شادی کسی عرب خاتون سے کروائیں جو قرآن و سنت بہتر سمجھ سکتی ہو گی۔ اسطنبول سے بورصہ جاتے ہوئے فئیری میں ایک روز کسی خاتون سے اس کی علیک سلیک ہوئی، ابتدائی تعارف کے بعد اس نے کہا میں اپنے شیخ سے بات کروں گا، اگر وہ اجازت دیں گے تو بات آگے بڑھے گی۔
مجھے فون کیا، اس کے فضائل و خصائل اور حسنِ سیرت پر باسفورس سے بھی طول پُل باندھا کہ عالمہ فاضلہ، سمجھ دار اور عربی کلام و فصاحت میں تو ہمالیہ سے بھی بلند تر ہے، لہٰذا آپ اس لڑکی کے والدین سے بات کریں اور اپنا مشورہ دیں۔ میں نے اسی وقت سیدنا حسان ابن ثابت رضی اللہ عنہ کے یہ اشعار اس لڑکی کو بھجوانے کا مشورہ دیا اور پڑھنے کے بعد اس کے ردِ عمل کا انتظار کرنے کا کہا۔
وَأَحسَنُ مِنكَ لَم تَرَ قَطُّ عَيني
وَأَجمَلُ مِنكَ لَم تَلِدِ النِساءُ
خُلِقتَ مُبَرَّءً مِن كُلِّ عَيبٍ
كَأَنَّكَ قَد خُلِقتَ كَما تَشاءُ
احمد نے یہ اشعار لڑکی کو بھجوا دیے، کچھ وقت کے بعد اس نے جواباً عربی میں محبت و عشق پر مبنی اشعار کا انبھار لگا دیا، تعریفوں کے پل باندھ دیے کہ مجھے نہیں علم تھا کہ مختصر وقت میں ہم ایک دوسرے سے اس قدر محبت کرنے لگیں گے اور میں تمہارے دل میں اس قدر اتر جاوں گی اور تم مجھے محبت و چاہت کے اس درجے پر بٹھاو گے اور ایسے اشعار میرے لیے کہو گے۔
پس میں نے اسے بتایا کہ اس گوری چِٹی چمڑی، خوبصورت لباس، عربی النسل ہونے اور قادر الکلام شخصیت کے باطن میں جہل کوٹ کوٹ کر بھرا ہے جو یہی نہیں سمجھ سکی کہ ایسے اشعار کسی عام انسان کے لیے نہیں ہو سکتے لہٰذا یہ خاتون disqualified ہے۔ کیونکہ وہ wow, amazing, fabulous, classy, skinny, تو ہو سکتی ہے لیکن وہ ایک عربی شرافت، علمیت، وراثت، تہذیب و تمدن اور اکابر کی حیثیت سے غیر واقف ہے۔
افتخار الحسن رضوی
۸ رمضان المبارک ۱۴۴۳
۹ اپریل ۲۰۲۲