مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

اسلامی احکام کے سائنسی فوائد

 

اسلامی احکام خواہ عبادات سے متعلق ہوں یا تہذیب وثقافت اور انسانی رزق سے متعلق ہوں,احکام خداوندی میں بہت سے طبی اور سائنسی فوائد ضرور مضمر ہیں۔

 

جب کورٹ,کچہری اور غیر مسلموں کی مجلس میں اسلامی احکام بیان کئے جائیں تو ان کے سائنسی وطبی فوائد ضرور بیان کئے جائیں۔عہد حاضر میں اسلام وقرآن کی مخالفت ہی بعض لوگوں کا مقصود اصلی ہے۔اسلام وقرآن کا نام سن کر ہی مخالفین کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔ایسی صورت میں وہ اسلامی احکام کی تائید نہیں کر سکتے۔

 

جب بھی کورٹ میں کسی اسلامی حکم سے متعلق مقدمہ دائر کیا جائے تو اس کے طبی وسائنسی فوائد بھی بیان کئے جائیں۔دستور ہند کے بنیادی اصولوں میں ملک کو سائنسی طریقے پر ترقی دینے کی بات مرقوم ہے۔ان اصولوں کو بھی نقل کیا جائے۔

 

ختنہ میں طبی وسائنسی فوائد ہیں,لہذا امریکہ میں اسی فی صد نصاری اپنے بچے کی پیدائش کے وقت ہی اس کا ختنہ کرا دیتے ہیں۔نصاری نے اسلامی حکم کے سبب ختنہ کو اختیار نہیں کیا,بلکہ طبی وسائنسی فوائد کے پیش نظر اختیار کیا ہے۔یہ سلسلہ انیسویں صدی کے اواخر ہی میں امریکہ میں مقبول ہو چکا تھا۔ختنہ کو تپ دق,سر درد اور دیگر امراض کے خاتمے کے لئے مؤثر مانا گیا ہے۔

 

بھارت کے کسی کورٹ میں کسی اسلامی حکم سے متعلق مقدمہ دائر ہو یا غیر مسلموں کو اسلامی حکم سمجھانا ہو تو اس حکم اسلامی کے طبی وسائنسی فوائد بھی بیان کئے جائیں۔

 

گزشتہ سال ہم نے”پیغام امن ریسرچ کمیٹی”کے زیر اہتمام ہندی مضامین کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ان مضامین میں اسلامی احکام کے سائنسی وطبی فوائد بھی بیان کئے جاتے تھے۔افسوس کہ وہ سلسلہ کسی سبب سے موقوف ہو گیا۔عہد ماضی اور زمانہ حال کی متعدد کتابوں میں اسلامی احکام کی حکمتیں اور ان کے طبی وسائنسی فوائد رقم کئے گئے ہیں۔

 

بھارتی مسلمانوں کو چاہئے کہ اسلام ومسلمین سے متعلق تمام امور کو کورٹ میں پیش نہ کریں۔کورٹ کے عجیب وغریب فیصلوں کے پیش نظر یہی بہتر سمجھ میں آتا ہے کہ سماجی لیڈروں کی ثالثی اور فریقین کی باہمی مصالحت کے ذریعہ اس قسم کے معاملات کو حل کیا جائے۔اس میں اخراجات بھی کم ہوں گے اور انتظار بھی کم۔بابری مسجد کا مقدمہ 1949 سے جاری تھا اور ضلعی کورٹ سے ہائی کورٹ,ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ پہنچا۔مسلمانوں کو کیا ملا,سب کو معلوم ہے۔

 

طارق انور مصباحی

 

جاری کردہ:10:اپریل 2022