تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل شمس الرحمن مشہدی کی مختار کذاب کی قبر پر حاضری والی تصویر مع تبصرہ اپلوڈ کی تو موصوف کی جانب سے گالیوں کے نذرانے پیش کیے گئے ، ساتھ ہی رپورٹنگ کرکے ایک مہینے کیلئے مجھے بلاک بھی کروادیا گیا ۔

 

اس موضوع پہ چند ایک باتیں ادھوری رہ گئی تھی لہذا اب وہ پیش خدمت ہیں کہ

 

1- شمس الرحمان نےجس مختارِ ثقفی کی قبر پہ حاضری دی ، منقبت پڑھی ، اُسی مختار کے متعلق شمس الرحمان کے خود ساختہ شیخ الاسلام نے اپنی کتاب “عقیدہ ختم نبوت ” میں ایک روایت نقل کی ہے کہ

 

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی ، جب تک تیس کذاب دجال نہ نکل آئیں ، ان میں سے مسیلمہ ، عنسی ، مختار ، عرب کے شرپسند قبائل ، بنو امیہ ، بنو حنیفہ ، اور ثقیف ہیں۔

 

(عقیدہ ختم نبوت ص 362 ، منہاج القرآن پبلی کیشنز لاہور ، بحوالہ مسند ابویعلی رقم 6820 )

 

2- جناب والا بتائیے کہ آپ جس مختار کی محبت میں گیت گا رہے ہیں ، وہ تو جھوٹے مدعیان نبوت میں سے نکلا ، حدیث پاک کے مطابق کذاب و دجال ثابت ہوا ، مگر آپ اسی سے فیوض و برکات سمیٹ رہے ہیں

 

اور اگر آپ کہیں کہ یہ وہ نہیں ہے ، جس کا روایت میں ذکر ہے تو پھر آپ ہی بتادیں کہ حدیث میں “مختار” سے مراد کون سا مختار ہے؟

 

3- آپ لوگ ایسی روایات کے سہارے بنو امیہ کی مذمت تو کرتے ہو ، لیکن اسی روایت میں آپ کو بنو ثقیف کیوں نہ نظر آیا؟ کہ جس مختار کی ہم بات کررہے ہیں اس کا تعلق اسی قبیلے ثقیف سے تھا اور اسی نسبت سے وہ “مختار الثقفی ” کہلایا ۔۔۔۔

 

ایک روایت میں آتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : اِنَّ فِی ثَقِیفَ کَذَّابًا وَمُبِیرًا ۔

 

یعنی قبیلۂ ثقیف میں ایک جھوٹا اور ظالم ہو گا ۔ (صحیح مسلم)

 

اور علمائےکرام کا اس بات پر اتفاق ہےکہ کذّاب سے مراد مختار بن ابو عبید ہے اور مبیر سےحجاج بن یوسف مراد ہے۔(شرح صحیح مسلم للنووی :باب ذکر کذاب ثقیف )

 

اسی طرح امام ذہبی لکھتے ہیں :”المختار بن أبى عبيد الثققى الكذاب.لا ينبغى أن يروى عنه شئ،لانه ضال مضل.كان يزعم أن جبرائيل عليه السلام ينزل عليه.وهو شر من الحجاج أو مثله”

 

مختار بن ابی عبید ثقفی بہت بڑا کذاب شخص تھا ، اس سےکوئی بھی شے روایت کرنا مناسب نہیں ہے کیوں کہ وہ گمراہ ، گمراہ گر تھا ، اس کا گمان یہ تھا کہ جنابِ جبرائیل علیہ السلام اس پر نازل ہوتے تھے اور یہ شخص حجاج بن یوسف سے شر میں بڑھ کر تھا یا پھر اس جیسا تھا۔

(میزان الاعتدال:ترجمۃ مختار بن ابی عبید الثقفی ، حرف المیم ، ج6 ، ص385 ، دار الکتب العلمیۃ بیروت)

 

اسی طرح امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

 

کہ حضرت ابن الزبیر رضی اللہ عنہما کے دور خلافت میں مختار کذاب نے نبوت کا دعوی کیا ، اور آپ کے خلاف بغاوت کردی ۔ آپ نے اس کے خلاف جنگ کرنے کیلئے لشکر تیار کیا ، اور 67ھ میں اسے گرفتار کرکے قتل کردیا ۔

 

(تاریخ الخلفاء مترجم ص 393 ضیاء القرآن لاہور)

 

بطور ثبوت نیچے کچھ تصاویر لگا دی ہیں جس سے پتا چل سکتا کہ شمس الرحمان واقعی مختار ثقفی کی قبر پر گیا تھا کہ اگر نہ گیا ہوتا تو ہماری تنقید پر آگ بگولا ہوکر نہ ہمیں بُرا بھلا کہتا اور نہ ہی مختار کی شان میں قصیدے پڑھتا ۔

 

اللہ تعالیٰ اہل سنت کو ایسے جعلی پیروں اور دو نمبر مولویوں کے شر سے محفوظ رکھے آمین

 

✍️ارسلان احمد اصمعی قادری

11/4/2022ء