متعہ کی مختصر حقیقت

افتخار الحسن رضوی

 

متعہ کو حلال سمجھنے والے گروہ کے ہاں سب سے اولین و بڑا اعتراض یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے متعہ کو حرام قرار نہیں دیا بلکہ حضرتِ عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں متعہ بند کیا گیا۔ اس سے قبل یہ جائز و حلال تھا۔ انہیں سمجھنا چاہئیے کہ یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا منصب نہیں تھا، متعہ دورِ رسالت مآب ﷺ میں ہی حرام قرار دیا جا چکا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں اس کی حرمت کو مزید واضح فرمایا تھا۔ جہاں تک اس کے حلال ہونے کا تعلق ہے تو یہ شارعِ اسلام ﷺ کی حیاتِ ظاہری میں ایک خاص وقت تک جائز رہا، مثلاً جنگ کے ایام میں اسے حلال کیا گیا، اس دور میں جنگی سفر مہینوں کا اور پیدل ہوتا تھا، سخت گرمی اور پھر وطن سے دوری کی وجہ سے اسے مباح قرار دیا گیا لیکن اس کے بعد فتحِ مکہ کے موقع پر رسولِ رحمت ﷺ نے قیامت تک کے لئیے اسے حرام قرار دے دیا۔

 

قرآنِ حکیم میں نکاح اور باندیوں کا ذکر ضرور ملتا ہے تاہم کسی ایک آیت کے چھوٹے سے جز میں بھی متعہ کے حلال ہونے کا کوئی بیان ہرگز ہر گز نہیں ہے۔

“تو نکاح میں لاؤ جو عورتیں تمہیں خوش آئیں دو ۲دو ۲ اور تین۳ تین۳ اور چار ۴چار۴ پھر اگر ڈرو کہ دوبیبیوں کوبرابر نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی کرو یا کنیزیں جن کے تم مالک ہو ” (النساء 4 : 03)

 

قضاء شہوت کے لئیے اللہ تعالٰی نے مذکورہ آیت میں فقط دو صورتیں بیان فرما دیں، اگر متعہ حلال ہوتا تو رب تعالٰی اس کا ذکر بھی اسی آیت کریمہ میں فرما دیتا۔ اپنی نفسانی و شہوانی خواہش کے لئیے ایک سے چار تک بیویاں یا خریدی ہوئی باندیاں اور کنیزیں رکھ سکتے ہو۔ یہی تقوٰی اور پرہیزگاری ہے۔ اللہ عالم الغیب ، علیم و حکیم کا یہاں متعہ کا بیان نہ فرمانا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حرام ہے، اگر حلال ہوتا یا مستقبل میں اس کے حلال ہونے یا اس کی وقتی ضرورت کی گنجائش ہوتی تو رب تعالٰی قرآنِ مقدس میں اس کا بیان فرما دیتا۔ فتح مکہ سے قبل متعہ کی جو صورتیں جائز یا مباح تھیں اس آیت کے بعد وہ بھی منسوخ ہو گئیں۔

 

اب ایک عقلی دلیل ملاحظہ فرمائیں کہ جب حق تعالٰی جل شانہ نے دو ایسی صورتیں بیان فرما دی ہیں جن سے ہر کلمہ گو فائدہ اٹھا سکتا ہے تو متعہ کی حاجت ہی کیوں باقی رہے گی؟ متعہ ایک ایسا عمل ہے جس سے انسانی حقوق کی پامالی، جسمانی درندگی، معاشرتی بے حسی اور اخلاقی اقدار کی پستی کی راہ تو ہموار ہو سکتی ہے تاہم اللہ کی رضا اور انسانیت کی بہتری ہرگز ہرگز حاصل نہیں ہو سکتی۔ متعہ میں عورت کے حقوق معین نہیں ہوتے، اس میں طلاق ہے نہ عدت۔ متعہ میں عورت کو میراث، جاگیر اور جائیداد میں کوئی حصہ نہیں ملتا، نہ ہی وہ کسی بھی معاملہ میں مرد جس سے وہ متعہ کرتی ہے اس کی وارث بنتی ہے۔

 

اس کی ایک مثال حیاتِ مصطفوی ﷺ کے ظاہری دور سے لیتے ہیں۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت کا خلاصہ ہے کہ ہم امام المجاہدین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں گئے ہم تثنیۃ الوداع پر اترے تو چراغوں کو دیکھا اور عورتوں کو روتے ہوئے دیکھا جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا یہ کیا ہے؟ بتایا گیا کہ یہ وہ عورتیں ہیں جن سے متعہ کیا گیا تھااور وہ رو رہی ہیں شمعِ بزمِ ہدایت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ نکاح، طلاق، عدت، اور میراث نے متعہ کو حرام کر دیا ہے۔

مسند ابو يعلی، رقم الحديث: 6594

 

جب ایک عورت کو آزادی سے نکاح، پھر طلاق یا خلع، عدت اور پھر شوہر کی میراث میں سے حصہ بھی شریعت نے مقرر فرما دیا تو اب کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے کہ وہ متعہ کرے؟۔ مرد کے لئیے چار بیویاں، پسند نہ آنے کی صورت میں یا کسی شرعی ضرورت کے تحت طلاق دینے کا حق بھی دیا گیا، پھر زمانہ قدیم میں لوگ غرباء کی عورتوں کو خرید لیا کرتے تھے، ان کے ساتھ بھی مباشرت جائز قرار دی گئی تو اب ان تمام سہولیات کے باوجود اگر کوئی متعہ جیسی قبیح حرکت کرے تو اس کی عقل کی خرابی ہی ہو سکتی ہے۔

 

جو لوگ متعہ کو حلال جانتے ہیں وہ حضرت ِ علی رضی اللہ عنہ کو ہی دینِ کل سمجھتے ہیں۔ ان کے لئیے سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی روایت پیشِ خدمت ہے۔

باب العلم، خیبر شکن، مولا علی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن عورتوں سے متعہ اور پالتو گدھوں کے گوشت کو حرام قرار دیا۔

صحيح مسلم، حديث نمبر: 1407

 

متعہ سے ملتی جلتی ایک گھناؤنی رسم آج کل عرب میں بھی رائج ہے۔ خصوصاً سعودی عرب کے مرد اس لعنت کا شکار ہیں۔ سعودیوں نے اپنے گھروں میں کام کاج کے لئیے آنے والی مشرقِ بعید، ہندوستان، بنگلہ دیش اور افریقی ممالک کی لڑکیوں کو اپنی تسکین کا سامان بنایا ہے۔ ہسپتالوں اور دفاتر میں کام کرنے والی عورتوں کو ہفتے کے مخصوص دنوں میں جنسی تسکین کے لئیے منگوا لیتے ہیں اور ایک طے شدہ ریٹ پر ان کا یہ معاملہ چند ہفتوں سے کئی سالوں تک چلتا ہے۔ اس میں مدت طے کی جاتی ہے اور ماہوار تنخواہ۔ باقی خامیاں وہی ہیں جو متعہ میں پائی جاتی ہیں۔ عربوں کی منافقت دیکھئیے ایک طرف متعہ کرنے والوں پر فتووں کی بارش اور حرام کاری کے الزام دوسری طرف اپنی خود ساختہ شریعت میں اپنے ہی دیس میں یہ سب حلال۔ اسے مسیار کا نام دیتے ہیں اور عرب میں اسی قانونی و حکومتی تحفظ حاصل ہے۔

نوٹ: یہ مضمون ۲۸ فروری ۲۰۱۵ کو شائع ہوا، جسے مختلف ویب سائٹس اور مذہبی جرائد نے بھی شائع کیا۔ ہماری ویب سائٹ پر بھی یہ مضمون موجود ہے۔ آج نظر سے گزراتو پھر شئیر کر دیا۔