امام ابو حنیفہؓ کی مجلس میں تمہارا جانا میرے پاس ایک ماہ تک آنے سے زیادہ بہتر اور نفع بخش ہے!!!

 

امام زھیر بن معاویہ جو اپنے وقت میں لا مثل ثبت حجت درجہ کا محدث تھے اور انکو امیر الومومنین کے درجہ کے محدثین پر مقدم کیا جاتا تھا حافظہ اور علم حدیث کے حوالے سے

 

انکا مختصر تعارف پیش کرتے ہیں کہ ائمہ حدیث انکے بارے کیا اقوال بیان کر رکھے ہیں :

 

وقال عبد الله: حدثني صالح بن علي الهاشمي. قال: سمعت أحمد بن محمد ابن حنبل يقول: حفاظ الحديث، أو المتثبتين في الحديث، أربعة: سفيان الثوري، وشعبة، وزهير، وزائدة.

امام احمد کہتے ہیں حفاظ الحدیث اور متقینین حدیث میں چار لوگ ہیں سفیان ثوری ، شعبہ ، زھیر بن معاویہ اور زائدہ

[العلل (3855)]

 

وقال ابن هانىء: سمعت أبا عبد الله يقول: علم الناس إنما هو عن شعبة، وسفيان، وزائدة، وزهير، هؤلاء أثبت الناس، وأعلم بالحديث من غيرهم.

امام احمد کہتے ہیں لوگوں کا علم (حدیث) امام شعبہ ، سفیان ، زائدہ اور زھیر بن معاویہ سے ہے ۔ اور یہ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ ثبت اور حدیث کا علم جاننے والے تھے

[سؤالاته» (2163) ]

 

• وقال الميموني: حدثنا يحيى قال: سمعت شعيب بن حرب وذكر حديثًا عن زهير وشعبة. فقيل له: تقدم زهيرًا على شعبة؟ فقال: زهير أحفظ من عشرين مثل شعبة.

امام یحیییٰ کہتے ہیں میں نے امام شیعب بن حرب کو سنا انکو امام زھیر بن معاویہ اور امام شعبہ سےحدیث ذکر کی گئی اور ان سے کہا گیا امام زھیر کو امام شعبہ پر مقدم کیا جا سکتا ہے؟تو انہوں نے کہا زھیر بن معاویہ امام شعبہ جیسے حافظ سے ۲۰ گنا زیادہ (حافظ) تھے

[«سؤالاته» (426) ]

 

وقال الميموني: حدثنا يحيى. قال: سمعت معاذ بن معاذ يقول: لا والله، ما كان سفيان بأثبت عندي من زهير.

امام معاذ بن معاذ کہتے ہیں مجھے اللہ کی قسم ہے کہ میرے نزدیک امام سفیان امام زھیر بن معاویہ سے زیادہ ثبت نہیں

[سؤالاته (427) ]

 

وقال أبو داود: قلت لأحمد: إذا اختلف سفيان، وزهير في غير أبي إسحاق؟ قال: زهير عندي في كل شيء

امام ابو داود کہتے ہیں میں نے امام احمد سے کہا کہ امام سفیان اور زھیر بن معاویہ میں (حدیث) میں اختلاف ہو جائے امام ابو اسحاق سے روایت کرنے کے علاوہ (تو کس کو مقدم کرینگے؟) تو انہوں نے کہا میرے نزدیک ہر علم میں زھیر بن معاویہ مقدم ہیں (سفیان ثوری پر)

[سؤالاته (404)]

(نوٹ: امام اسحاق سے روایات کو استثناء اس لیے ہے کیونکہ امام زھیر بن معاویہ نے امام ابو اسحاق کے اختلاط ہونے کے بعد ان سے سماع کیا تھا)

 

امام ذھبی انکا تعارف کچھ یوں پیش کرتے ہیں :

الحافظ، الإمام،كان من أوعية العلم، صاحب حفظ وإتقان.

یہ حافظ امام ، اور علم (حدیث) کے ماہر تھے ۔ یہ بہت اعلیٰ حفظ والے تھے۔

 

پھر ائمہ کے اقوال نقل کرتے ہیں :

 

وقال أبو حاتم الرازي: زهير أحب إلينا من إسرائيل في كل شيء، إلا في حديث جده أبي إسحاق.

قيل لأبي حاتم: فزائدة، وزهير؟

قال: زهير أتقن، وهو صاحب سنة، غير أنه تأخر سماعه من أبي إسحاق.

وقال أبو زرعة الرازي: سمع زهير من أبي إسحاق بعد الاختلاط، وهو ثقة.

امام ابو حاتم کہتے ہیں میں زھیر بن معاویہ امام اسرائیل سے ہر علم میں زیادہ پسند ہے سوائے (اسرائیل) کے دادا ابو اسحاق سے روایت کرنے کہ۔

امام ابو زرعہ کہتے ہیں کہ زھیر بن معاویہ نے امام ابو اسحاق سے انکے اختلاط کے بعد سنا ۔ اور یہ ثقہ ہیں ،

 

قال سفيان بن عيينة لبعض الطلبة: عليك بزهير بن معاوية، فما بالكوفة مثله.

امام سفیان بن عیینہ نے اپنے بعض تلامذہ سے کہا کہ تم امام زھیر بن معاویہ کو لازمی تھام لو کہ کوفہ میں ان جیسا کوئی نہیں

[سیر اعلام النبلاء برقم:۲۶]

 

اب چونکہ امام زھیر بن معاویہ کے تعارف سے معلوم ہو گیا کہ یہ اپنے وقت کے بڑے بڑے حفاظ جیسا کہ امام شعبہ ، امام سفیان ثوری اور امام اسرائیل جیسے محدثین پر مقدم تھے اور علم حدیث کے حوالے سے یکتہ تھے

 

تو انکی امام ابو حنیفہؓ کے بارے رائے اہمیت کے حامل ہوگی!

 

امام ابن عبدالبر الانتقاء میں انکا امام ابو حنیفہ کے بارے کلام نقل کرتے ہیں:

قَالَ أَبُو يَعْقُوبَ نَا أَبُو جَعْفَرٍ الْعُقَيْلِيُّ قَالَ نَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ قَالَ نَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ قَالَ كُنَّا عِنْدَ زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ زُهَيْرٌ مِنْ أَيْنَ جِئْتَ فَقَالَ مِنْ عِنْدِ أَبِي حَنِيفَةَ فَقَالَ زُهَيْرٌ إِنَّ ذَهَابَكَ إِلَى أَبِي حَنِيفَةَ يَوْمًا وَاحِدًا أَنْفَعُ لَكَ مِنْ مَجِيئِكَ إِلَيَّ شَهْرًا

 

امام علی بن الجعد بیان کرتے ہیں : ہم لوگ زہیر بن معاویہ کے پاس موجود تھے ، ایک شخص ان کے پاس آیا تو زہیر نے اس سے دریافت کیا تم کہاں سے آئے ہو؟ اس نے جواب دیا امام ابو حنیفہؓ کے پاس سے ! تو زہیر نے فرمایا : تمہارا ایک دن امام ابو حنیفہ کے پاس جانا ، تمہارے لیے میرے پاس ایک ماہ آنے سے زیادہ نفع بخش ہے

[الانتقاء ص ۱۳۴ وسندہ صحیح]

 

اس روایت پر یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ امام ابن عبدالبر کا سماع تو ثابت ہی نہیں امام ابو یعقوب الصیدلانی سے تو اسکا جواب درج ذیل ہے:

 

امام ابو یعقوب الصیدلانی امام عقیلی کے شاگرد ہیں اور امام ابن عبدالبر کے شیخ الشیخ ہیں یعنی امام ابن عبدالبر کے شیخ امام حکم بن منذر ہیں اور انکے شیخ امام ابو یعقوب الصیدلانی ہیں

یہ امام عقیلی کی کتاب الضعفا ء روایت کرنے والے مرکزی راوی ہیں اور اسی کتاب میں امام عقیلی نے امام ابو حنیفہ کے ترجمے میں فقط جرح اور طعن نقل کیا جسکے جواب میں امام ابو یعقوب الصیدلانیؒ نے اپنے شیخ کے اس تعصب کے جواب میں غیر حنفی ہوتے ہوئے امام ابو حنیفہؓ کے بارے میں جو مداح اور توثیق جنکو امام عقیلی نے اپنی کتاب میں لکھنے سے پرہیزکیا تو امام الصیدلانی نے انکو جمع کیا اور ایک مکمل کتاب تشکیل دی جسکا نام تھا فضائل ابو حنیفہ و اخبار

یہ کتاب امام ابن عبدالبرؒ کے پاس موجود تھی تو یہ اعتراض کرنا کہ امام الصیدلانی اور امام ابن عبدالبر کے زمانے میں فرق ہے اور سماع نہیں یہ بات صحیح نہیں کیونکہ امام ابن عبدالبر کے شیخ حکم بن منذر ؒ ہیں اور انکے شیخ الصیدلانی ہیں

امام ابن عبدالبر کے پاس امام الصیدلانی محدث مکہ کی تصنیف کردہ کتاب تھی اسکا ثبوت بھی ہم امام ابن عبدالبر ہی سے اسی کتاب سے پیش کرتے ہیں چنانچہ ایک جگہ امام ابن عبدالبر فرماتے ہیں ـ

 

كُلُّ هَؤُلاءِ أَثَنَوْا عَلَيْهِ وَمَدَحُوهُ بِأَلْفَاظٍ مُخْتَلِفَةٍ ذَكَرَ ذَلِكَ كُلَّهُ أَبُو يَعْقُوبَ يُوسُفُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يُوسُفَ الْمَكِّيُّ فِي كِتَابِهِ الَّذِي جَمَعَهُ فِي فَضَائِلِ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَخْبَارِهِ حَدَّثَنَا بِهِ حَكَمُ بْنُ مُنْذر رَحِمَهُ اللَّهُ

امام ابن عبدالبر فرماتے ہیں : یہ سب وہ حضرات ہیں جنہوں نے امام ابو حنیفہ کی تعریف کی ہے اور مختلف الفاظ کے زریعہ انکی تعریف بیان کی ہے ان سب کا تذکرہ امام ابو یعقوب یوسف بن احمد بن یوسف مکی نے اپنی کتاب میں کیا ہے جو انہوں نے امام ابو حنیفہ کے فضائل اور انکے حالات کے بارے میں مرتب کی ہے اس کے بارے میں حکم بن منذر نے ہمیں بیا ن کیا ہے

[الانتقاء في فضائل الثلاثة ،ص ۱۳۷]

 

امام ابن عبدالبر کی اس تصریح سے یہ واضح ہوگیا کہ امام ابن عبدالبر کے پاس امام الصیدلانی کی تصنیف کردہ کتاب موجود تھی تو انقطاع کا اعتراض کرنا باطل ہے

اور امام ابو یعقوب الصیدلانی کی مروایات کی تصحیح امام ابن عبدالبر نے کر رکھی ہے اور امام ذھبی انکو مسند و محدث مکہ قرار دیتے ہیں :

 

بقیہ سند کے رجال کا تعارف!

سند کے دوسرے راوی : امام عقیلی صاحب الضعفاء ہیں انکی توثیق پیش کرنے کی ضرورت نہیں

 

تیسرے راوی:أبو شعيب الحراني عبد الله الحسن بن أحمد بن أبي شعيب الأموي

امام ذھبی انکے بارے فرماتے ہیں:

وكان ثقة.

[العبر في خبر من غبر، ص ۴۲۸]

 

سند کا چوتھا راوی : امام علی بن الجعد ؒ

یہ بھی حفظ کے اعتبار سے متفقہ علیہ ثقہ ثبت اور مسند الجعد کے مصنف ہیں ۔

 

اور

سند کے پانچویں راوی امام زھیر بن معاویہ ہیں جنکا تعارف اوپر پیش کیا جا چکا ہے

 

نیز اس روایت کو مختصر اصح سند سے امام ابن ابی العوام نے بھی نقل کیا ہے :

حدثني محمد بن أحمد بن حماد قال: حدثني أحمد بن القاسم قال: قال علي بن الجعد: ۔۔۔الخ

[فضائل أبي حنيفة وأخباره ومناقبه برقم:۲۶۰ وسندہ جید]

 

تحقیق : اسد الطحاوی

Asadtahawi.com