مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

بدمذہبوں سے اتحاد یا ظلم وسازش کا دفاع

 

سوال:کیا بھارت کے تمام کلمہ گو فرقے متحد ہو جائیں تو مسلمانوں پر ہونے والے ظلم وستم ختم ہو جائیں گے؟

 

جواب:قریبا تیس سال سے ممبئی میں”علما کونسل”قائم ہے۔اس میں تمام فرقوں کے لوگ شریک ہیں,اس کے باوجود ممبئی میں فرقہ وارانہ فسادات ہوتے رہے ہیں۔اگر تمام فرقوں کے اتحاد کے سبب ظلم وستم ختم ہو جاتا تو ممبئی کے مسلمان غیروں کے مظالم سے محفوظ ہو جاتے۔

 

ظلم وستم کا خاتمہ بدمذیبوں سے اتحاد سے نہیں,بلکہ دفاع سے ہوتا ہے۔قرآن مقدس میں قصاص کو حیات انسانی قرار دیا گیا ہے,حالاں کہ قصاص میں مجرم کی موت ہوتی ہے۔در اصل جب قتل کے بدلے قتل کا قانون نافذ العمل رہے گا تو کوئی بھی کسی کو قتل کی ہمت وجرأت نہیں کرے گا اور انسانی جانیں قتل وہلاکت سے محفوظ رہیں گی۔

 

اسی طرح مسلمانوں پر ہونے والے ظلم وبربریت کا دفاع کیا جائے۔دفاع کی بہت سی صورتیں ہیں۔جس شہر میں جو کلمہ گو طبقہ کثیر التعداد ہو,وہ دفاع کا اصل ذمہ دار قرار دیا جائے,دوسرے لوگ اس کے تعاون میں رہیں۔

 

دفاع ضروری ہے۔اتحاد ضروری نہیں۔اگر ملک بھر کے سنی مسلمان وہابیہ,دیابنہ,غیر مقلدین,شیعہ,بوہرہ وغیرہ کے ساتھ مل جل کر رہیں۔سب ایک دوسرے کی اقتدا میں نمازیں پڑھیں۔ایک دوسرے سے شادی بیاہ کریں۔ایک دوسرے کی نماز جنازہ پڑھیں۔ایک دوسرے کے ساتھ سلام وکلام,مصافحہ ومعانقہ,خورد ونوش,نشست وںرخاست کریں اور اپنا دفاع نہ کریں تو دشمنوں کے مظالم جاری رہیں گے,اور اگر صرف اہل سنت وجماعت کے لوگ ہی مستحکم انداز میں دفاعی پوزیشن سنبھال لیں تو بھی ان شاء اللہ تعالی حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔

 

بعض لوگ اہل سنت کے اتحاد کی نہ کوشش کرتے ہیں اور نہ کبھی اس کا تذکرہ کرتے ہیں,لیکن بدمذہبوں سے اتحاد کے واسطے ہمیشہ اپنا سینہ کشادہ رکھتے ہیں۔یہ شیطانی حربے ہیں۔بدمذہبوں سے میل جول اور سیاسی وسماجی اتحاد سنی مسلمانوں کے لئے زہر قاتل ہے۔میل جول کے سبب مذہبی تصلب فنا ہو جاتا ہے اور صلح کلیت کا خطرہ سروں پر منڈلانے لگتا ہے۔غیروں کے مظالم سے بچنے کے لئے دفاع لازم ہے,نہ کہ بدمذہبوں سے اتحاد۔

 

اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ تمام کلمہ گو فرقے متحد ہو گئے تو اغیار ہم پر ظلم وستم ہی نہیں کریں گے۔کوئی ہم پر ہاتھ ہی نہیں اٹھائے گا تو یہ بھی غلط ہے۔جو لوگ اپنا ڈیفنس نہیں کرتے ہیں,ان سے کوئی ڈرتا نہیں۔

 

طارق انور مصباحی

 

جاری کردہ:12:اپریل 2022