مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

عصیان الہی سبب نجات نہیں

 

عصر حاضر میں بعض لوگ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ بدمذہبوں سے اتحاد ہی ہر مصیبت سے نجات کا واحد ذریعہ ہے۔آج سے سوا سو سال قبل یہ اتحادی نظریہ اہل ندوہ نے پیش کیا تھا۔اب اسی کو دوسرے لوگ دہراتے رہتے ہیں۔اسلوب بیان اور طرز تحریر بدل دیتے ہیں,لیکن نظریہ وہی ہوتا ہے جو اہل ندوہ نے پیش کیا تھا۔

 

حاجت شرعیہ کے تحقق کے وقت بدمذہبوں سے سیاسی اتحاد کی شرعی اجازت ہے,لیکن جب کسی دوسرے طریقہ سے آسانی کے ساتھ مقصود حاصل ہو سکتا ہو تو حاجت شرعیہ کا تحقق ہی نہیں ہو سکے گا,پھر سیاسی اتحاد کی اجازت کیسے حاصل ہو سکتی ہے۔

 

امام اہل سنت علیہ الرحمۃ والرضوان نے لکھنو کے مشترکہ اجلاس کے واسطے حضور حجۃ الاسلام قدس سرہ العزیز کو نمائندہ بنا کر بھیجا تھا اور حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ العزیز نے ممبئی کے مسلم پرسنل لا کانفرنس میں حضور برہان ملت وحضرت علامہ ارشد القادری علیہما الرحمۃ والرضوان کو نمائندہ بنا کر بھیجا تھا۔عوام وخواص کو سیاسی اتحاد کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

 

سیاسی اتحاد کی بجائے نمائندوں کا تقرر کیا جائے جو بدمذہب لیڈروں تک ہمارا پیغام پہنچا دیں اور بدمذہبوں کے پیغام ہم تک لا سکیں۔

 

اگر مشترکہ احتجاج ومظاہرہ کی شرعی حاجت ہو تواس کی ترتیب وہی ہو جو قرون اولی کی جنگوں میں ہوتی تھی کہ مختلف مسلم قبائل جنگ میں شریک ہوتے۔ہر قبیلہ کا سالار اسی قبیلہ کا کوئی فرد ہوتا اور تمام قبائلی افواج اور ان کے قائدین جنگ کے سپہ سالار اعلی کے ماتحت ہوتے۔یہی صورت اجتماعی احتجاج ومظاہرہ میں اختیار کی جائے۔

 

آج بھی اہل سنت وجماعت برصغیر میں کثیر التعداد ہیں۔ہمارے پاس ہر قسم کے افراد موجود ہیں۔صرف انہیں منظم کرنے کی ضرورت ہے۔بدمذہبوں سے سیاسی اتحاد کی شرعی ضرورت وحاجت ثابت نہیں اور عصیان الہی کسی مصیبت سے نجات کا ذریعہ وسبب نہیں۔

 

سلطان صلاح الدین ایوبی نے اپنی فوج اور اپنے کارندوں کو منظم رکھا اور عظیم الشان ونادر المثال فتوحات سے شادکام ہوئے۔بہت سے کلمہ گو سلاطین وحکام سلطان ایوبی کے بھی خلاف تھے۔سلطان کے مسلم مخالفین نصرانی سلاطین وحکام سے رابطہ رکھتے اور سلطان ایوبی کو مات دینے کی سازشوں میں مبتلا رہتے,لیکن اللہ تعالی نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو عظیم الشان فتح عطا فرمائی۔

 

فتح وشکست,مصیبتوں سے نجات اور جملہ حسنات وبرکات اللہ تعالی کی جانب سے ہیں۔رب تعالی کی نافرمانی میں نجات کی راہ ڈھونڈنا غلط ہے۔

 

طارق انور مصباحی

 

جاری کردہ:11:اپریل 2022