أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سَنَفۡرُغُ لَـكُمۡ اَيُّهَ الثَّقَلٰنِ‌ۚ ۞

ترجمہ:

اے جنات اور انسانوں کے گروہو ہم عنقریب تمہاری طرف متوجہ ہوں گے

جن و انس کا حساب لینے او ان کو اجر دینے میں اللہ کی نعمتیں

الرحمن :31-32 میں فرمایا : اے جنات اور انسانوں کے گروہو ! ہم عنقریب تمہاری طرف متوجہ ہوں گے۔ سو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے۔

اس آیت میں ” سنفرغ “ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے، ہم عنقریب تمہارے لئے فارغ ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کا کوئی ایسا شغل نہیں جس سے وہ فارغ ہو، اس لئے اس کا مجازی معنی ہے، ہم عنقریب تمہیں جزا دینے کے لئے اور تمہارا حساب کرنے کے لئے فارغ ہوں گے، اس میں ان کو عذاب سے ڈرایا ہے او ان کو عذاب کی دھمکی دی ہے۔

امام احمد نے حضرت کعب بن مالک (رض) سے ایک طویل حدیث روایت کی ہے، اس میں یہ مذکور ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لیلۃ العقبۃ میں انصار سے بیعت لی، تو شیطان نے چیخ کر کہا : اے گھروں والے ! یہ مذمَمّ ہے، یہ بنی قیلہ سے تمہارے خلاف جنگ کرنے کے لئے بیعت لے رہا ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ ازب العقبۃ (شیطان کا نام) ہے، سن اے اللہ کے دشمن ! میں عنقریب تیرے لئے فارغ ہوں گا، یعنی تیرے مکر کو باطل کرنے کا قصد کروں گا۔ (مسند احمد ج 3 ص 462)

ایک قول یہ ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے متقین سے ثواب کا وعدہ فرمایا ہے اور کفار اور فجار کو عذاب کی وعید سنائی ہے۔

اور اس آیت میں ” ثقلان “ کا لفظ ہے اس سے مراد جن و انس ہیں، ان کو ” ثقلین “ اس لئے فرمایا ہے کہ روئے زمین پر یہی سب سے عظیم مخلوق ہیں کیونکہ تمام مخلوقات میں صرف یہی مکلف ہیں یعنی صرف یہی تکلیف کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔

علامہ راغب اصفہانی نے لکھا ہے کہ ثقل، خفت کا مقابل ہے، بوجھ، وزنی چیز ( المفردات ج 1 ص 103) امام جعفر صادق نے کہا : ان کو ” ثقلین “ اس لئے فرمایا کہ یہ گناہوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں (اللکشف و البیان ج 9 ص 186) امام مقاتل بن سلیمان متوفی 150 ھ نے کہا : یعنی ہم عنقریب انسانوں اور جنات کا حساب لینے کا قصد کریں گے اور اس سے شیطین کا ارادہ نہیں کیا کیونکہ انہوں نے انسانوں اور جنات کو گمراہ کیا ہے عرب دھمکی دینے کے لئے کہتے ہیں۔ میں عنقریب تمہارے لئے فارغ ہوں گا۔ (تفسیر مقاتل بن سلیمان ج 3 ص 306) دارالکتب العلمیۃ بیروت 1424 ھ )

القرآن – سورۃ نمبر 55 الرحمن آیت نمبر 31