أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَكَانَتۡ وَرۡدَةً كَالدِّهَانِ‌ۚ ۞

ترجمہ:

پھر جب آسمان پھٹ جائے تو وہ سرخ چمڑے کی طرح سرخ ہوجائے گا

آسمان کے پھٹنے اور اس کے سرخ ہوجانے میں اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اور ” وردۃ “ اور دھان “ کے معنی

الرحمن :37-38 میں فرمایا : پھر جب آسمان پھٹ جائے گا تو وہ سرخ چمڑے کی طرح سرخ ہوجائے گا ! سو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گی۔

اس آیت میں ” وردۃ “ اور ” دھان “ کے الفاظ ہیں ” وردۃ “ کے معنی گلاب کی طرح سرخ ہیں اور ” دھان “ کے معنی تیل ہیں یعنی آسمان پھٹ کر آگ کی تپش سے پگھل جائے گا اور دوزخ کی آگ کی حرارت سے سرخ ہوجائے گا اور تیل کی طرح بہ رہا ہوگا۔ ابو عبید اور فرا نے ذکر کیا ہے کہ ” دھان “ کا معنی سرخ چمڑا ہے یعنی آسمان دوزخ کی آگ کی شدید تپش سے کچے چمڑے کی طرح سرخ ہوجائے گا۔

القرآن – سورۃ نمبر 55 الرحمن آیت نمبر 37