أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَيَوۡمَئِذٍ لَّا يُسۡـٴَـلُ عَنۡ ذَنۡۢبِهٖۤ اِنۡسٌ وَّلَا جَآنٌّ‌ۚ ۞

ترجمہ:

سو اس دن کسی گناہ گنار کے گناہ کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا انسان سے نہ جن سے

گناہ گاروں سے ان کے گناہوں کے متعلق سوال نہ کرنے کا ایک آیت سے تعارض اور اس کے جوابات

الرحمن :39-40 میں فرمایا : سو اس دن کسی گناہ گار کے گناہ کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا، انسان سے نہ جن سے۔ سو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گی۔

ایک اور آیت میں بھی اسی طرح فرمایا ہے :

اور مجرموں سے ان کے گناہوں کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا۔ (القصص 78)

اس پر یہ اعتراض ہے کہ ایک اور آیت میں اس کے برعکس فرمایا ہے :

آپ کے رب کی قسم ! ہم ان سب سے ضرور سوال کریں گے۔ (الحجر 93)

اس کے حسب ذیل جوابات ہیں :

1 عکرمہ نے کہا : قیامت کا دن بہت طویل ہوگا، پس کسی وقت اللہ تعالیٰ مجرموں سے سوال نہیں فرمائے گا اور دوسرے وقت میں سوال فرمائے گا۔

2 میدان محشر میں ان سے سوال کیا جائے گا اور جب ان کو دوزخ میں ڈال دیا جائے گا پھر ان سے سوال نہیں کیا جائے گا۔

3 اللہ ان سے ان کے گناہوں کو جاننے کے لئے سوال نہیں کرے گا کہ تم نے کیا گناہ کئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ان سے زیادہ ان کے اعمال کو جاننے والا ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ ان سے زجروتوبیخ اور ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر سوال کرے گا کہ تم نے یہ کام کیوں کئے۔

4 ابو العالیہ نے کہا : غیر مجرم سے مجرم کے گناہوں کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا۔

5 پہلے مجرموں سے سوال کیا جائے گا اور جب ان کی زبان اور ان اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے تو پھر ان سے سوال نہیں کیا جائے گا۔

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ ہنسنے لگے، پھر آپ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ میں کیوں ہنسا تھا ؟ ہم نے کہا : اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ نے فرمایا : میں بندے کے اپنے رب سے کلام پر ہنسا ہوں، بندہ کہے گا، اے میرے رب ! کیا تو نے مجھ کو ظلم سے پناہ نہیں دی ؟ اللہ فرمائے گا : کیوں نہیں ! بندہ کہے گا : آج میں اپنے خلاف اپنے نفس کے سوا کسی اور کو گواہی دینے کی اجازت نہیں دوں گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : آج تیرے خلاف تیرے نفس کی شہادت ہی کافی ہے اور لکھنے والے معزز فرشتوں کی گواہی کافی ہے، پھر اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے اعضاء سے کہا جائے گا : تم کلام کرو، پھر اس کے اعضاء اس کے اعمال بیان کریں گے، پھر وہ شخص اکیلے میں اپنے اعضاء سے کہے گا : دفع ہو جائو ! میں تمہارے لئے ہی تو جھگڑتا تھا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث 2969)

اور اس کی تائید میں قرآن مجید کی یہ آیت ہے :

آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے کلام کریں گے اور ان کے پائوں ان کاموں کی گواہی دیں گے جو وہ کرتے تھے۔ (یٰس 65)

6 مجرموں اور ان کے جرائم کے متعلق اس لئے سوال نہیں کیا جائے گا کہ کراماً تابین نے ان کے صحائف اعمال میں ان کے تمام جرائم کی فہرست تیار کر رکھی ہوگی۔

7 مجرموں سے ان کے جرائم کے متعلق اس لئے سوال نہیں کیا جائے گا کہ ان کے جرائم کی علامتیں ان کے چہروں سے ظاہر ہوں گی۔

اور بہت سے چہرے اس دن غبار آلود ہوں گے۔ جن پر سیاہی چڑھی ہوئی ہوگی۔ (عبس، 40-41)

رہے وہ لوگ جن کے چہرے سیاہ ہوں گے۔ (آل عمران :106)

مجرموں کے چہرے سیاہ ہوں گے ان کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں ہوں گے ان کی آنکھیں نیلی ہوں گی اور ان کو پیشانی کے بالوں اور ان کے قدموں سے پکڑا ہوا ہوگا پھر ان کے جرائم کے متعلق ان سے سوال کرنے کی کیا ضرورت ہوگی ؟

القرآن – سورۃ نمبر 55 الرحمن آیت نمبر 39