أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِىۡ يُكَذِّبُ بِهَا الۡمُجۡرِمُوۡنَ‌ۘ ۞

ترجمہ:

یہ ہے وہ جہنم جس کی مجرمین تکذیب کیا کرتے تھے

جہنم میں کفار کے گھومنے کی کیفیت

الرحمن 43-45 میں فرمایا : یہ ہے وہ جن ہم جس کی مجرمین تکذیب کیا کرتے تھی۔ وہ اس دن اس (جہنم) میں اور سخت کھولتے ہوئے پانی میں گھوم رہے ہوں گے۔ پس تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گی۔

جب کفار دوزخ کے قریب ہوں گے تو ان سے دوزخ کے پہرے دار کہیں گے، یہ ہے جہنم جس کی تم دنیا میں تکذیب کیا کرتے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کا دوزخ میں حالبیان فرمایا، ان کو پینے کے لئے کھولتا ہوا مشروب دیا جائے گا ان پر بھوک مسلط کی جائے گی اور ان کو کھانے کے لئے شجرزقوم کا پھل دیا جائے گا (تھوہڑ کے درخت کا سخت کروڑا پھل جس کو اندرائن کہتے ہیں ض وہ اس کو کھائیں گے تو وہ ان کے حلق میں پھنس جائے گا پھر وہ پانی کے لئے فریاد کریں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ کھولتے ہوئے پانی کے پاس جائو وہ اس کو پیں گے تو وہ ان کے مونہوں کو جلا دے گا اور وہ پانی ان کے پیٹوں میں جوش کھا رہا ہوگا اور ان کے پیٹوں میں جو کچھ ہوگا اس کو نکال کر باہر کردے گا پھر ان پر دوبارہ بھوک مسلط کی جائے گی پھر دوبارہ کبھی وہ تھوہر کے درخت کے پاس جائیں گے اور کبھی کھولتے ہوئے پانی کے پاس جائیں گے۔ (بحرالعلوم ج 3 ص 309)

القرآن – سورۃ نمبر 55 الرحمن آیت نمبر 43