أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يُرۡسَلُ عَلَيۡكُمَا شُوَاظٌ مِّنۡ نَّارٍ وَّنُحَاسٌ فَلَا تَنۡتَصِرٰنِ‌ۚ۞

ترجمہ:

(اے مکذبو ! ) تم پر (روز قیامت) آگ کا خالص شعلہ اور دھواں چھوڑا جائے گا پھر تم اس کو دور نہ کرسکو گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اے مکذبو ! ) تم پر روز قیامت آگ کا خالص شعلہ اور دھواں چھوڑا جائے گا پھر تم اس کو دور نہ کرسکو گے۔ سو تم سو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گی۔ پھر جب آسمان پھٹ جائے گا تو وہ سرخ چمڑے کی طرح سرخ ہوجائے گا۔ سو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گی۔ سو اس دن کسی گناہ گار کے گناہ کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا، انسان سے نہ جن سے۔ سو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گی۔ (اس دن) مجرمین اپنے حلیوں سے پہچان لئے جائیں گے اور ان کو ان کی پیشانیوں کے بالوں اور قدموں سے پکڑ لیا جائے گا۔ پس تم سو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گی۔ یہ ہے وہ جہنم جس کی مجرمین تکذیب کیا کرتے تھی۔ وہ اس دن (اس جہنم) میں اور سخت کھولتے ہوئے پانی میں گھوم رہے ہوں گے سو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گی۔ (الرحمن 35-45)

” شواظ “ اور ” نحاس “ کے معنی

” نحاس “ کا ایک معنی دھواں ہے اور دوسرا معنی پگھلا ہوا پیتل یا تانبا ہے، مطلب یہ ہے کہ اگر بالفرض قیامت کے دن کفار کہیں بھاگ کر گئے بھی تو فرشتے آگے کے شعلے اور دھواں چھوڑ کر تمہیں واپس لے آئیں گے یا تمہارے سروں پر پگھلا ہوا تانبا یا پیتل ڈال کر تمہیں واپس لے آئیں گے اور تم اس عذاب کو دور نہیں کرسکو گے۔

اس آیت میں ” شواظ “ اور ” نحاس “ کے الفاظ ہیں۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا :” شواظ “ کا معنی ہے ایسی آگ جس میں دھواں نہ ہو اور ” نحاس “ اس دھوئیں کو کہتے ہیں : جس میں آگ نہ ہو اور ” نِحاس “ (زیر کے ساتھ) ” نحس “ کی جمع ہے اور ” نحاس “ اس پگھلے ہوئے پیتل کو کہتے ہیں جو ان کے سروں پر ڈالا جائے گا اور ” فلاتنصران “ کا معنی ہے : جن اور ان ایک دوسرے کی مدد نہیں کرسکیں گے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 55 الرحمن آیت نمبر 35