أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يُعۡرَفُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ بِسِيۡمٰهُمۡ فَيُؤۡخَذُ بِالنَّوَاصِىۡ وَالۡاَقۡدَامِ‌ۚ ۞

ترجمہ:

(اس دن) مجرمین اپنے حلیوں سے پہچان لئے جائیں گے اور ان کو ان کی پیشانیوں کے بالوں اور قدموں سے پکڑ لیا جائے گا

روزِ قیامت کی ہولناکیاں

الرحمن :41-42 میں فرمایا : (اس دن) مجرمین اپنے حلیوں سے پہچان لئے جائیں گے اور ان کو ان کی پیشانیوں کے بالوں اور قدموں سے پکڑ لیا جائے گا۔ پس تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گی۔

حسن نے کہا : ان کا چہرہ سیاہ ہوگا اور ان کی آنکھیں نیلی ہوں گی، قرآن مجید میں ہے : اس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض چہرے سیاہ ہوں گے۔ (آل عمران :106)

ہم اس دن مجرمین کو اکٹھا کریں گے (دہشت کی وجہ سے) ان کی آنکھیں نیلی ہوں گی۔ (طٰۃ 103)

فرشتے ان کو ان کی پیشانی کے بالوں اور قدموں سے پکڑ کر دوزخ میں ڈال دیں گے۔

ضحاک نے کہا : ان کی پیشانیوں کو اور ان کے قدموں کو ان کی پیٹھوں کے پیچھے سے زنجیروں سے جکڑ دیا جائے گا پھر ان کی ٹانگوں اور پیشانی کے بالوں سے پکڑ کر ان کو دوزخ میں ڈال دیا جائے گا، یہ اس لئے کیا جائے گا تاکہ ان کا عذاب زیادہ شدید اور زیادہ قبیح ہو۔

ایک قول یہ ہے کہ فرشتے ان کو گھسیٹ کر دوزخ میں لے جائیں گے، دوسرا قول یہ ہے کہ ان کو بالوں سے پکڑ کر منہ کے بل گھسیٹیں گے، تیسرا قول یہ ہے کہ ان کو بالوں سے پکڑ کر سر کے بل گھسیٹ کرلے جائیں گے۔

القرآن – سورۃ نمبر 55 الرحمن آیت نمبر 41