ISPR کے ترجمان نے کل کے پریس بریفنگ میں خط کے تعلق سے ایک بات واضح کردی کہ بیرونی مداخلت تھی اور مراسلہ میں غیر سفارتی گفتگو کی گئی تھی ۔

۔

مجھے عمران خان سے کوئی ہمدردی نہیں لیکن بحیثیتِ پاکستانی میرے ملک کے وزیراعظم کو بیرونی مداخلت کی وجہ راتوں رات عہدے سے فارغ کیا گیا اِس بات پر مجھے حیرانگی ضرور ہے اور تشویش بھی حالانکہ لوگ کہتے ہیں میرے ملک کی دفاعی پوزیشن بہت مضبوط ہے ۔

۔

جب سے عمران حکومت کا خاتمہ ہوا ہے ہمارے کئ سُنّی بھائ سوشل میڈیا پر بھنگڑے ڈال رہے ہیں ۔کوئی کہہ رہا ہے شہیدانِ ناموسِ رسالت کی آہ اسے لے ڈوبی ،کوئی کہہ رہا ہے باباجی کی بددعائیں اثر کرگئیں ۔کوئی کہہ رہا پچھلا رمضان تم ہم پر ظلم کررہے تھے، چھاپے پڑوا رہے تھے اب اِسْ سال تمھارے ساتھ بھی وہی ہورہا ہے وغیرہ وغیرہ ۔

۔

جب نوازشریف کی حکومت ختم ہوئ تب بھی ہمارے سُنّی بھائیوں نے بھنگڑے ڈالے۔ منبروں پر بڑے بڑوں نے پیشنگوئیاں کیں کہ تم نیست ونابود ہوجاؤ گے تمھاری پارٹی کو کوئی نام لیوا بھی نہیں ہوگا وغیرہ وغیرہ ۔

۔

خدا کی قدرت دیکھئے چند ہی عرصہ گزرا نوازشریف شریف کی پارٹی دوبارہ برسرِ اقتدار آگئ ۔

۔

میرے سُنّی بھائیو! بھنگڑے ضرور ڈالئے ،۔سیاست ضرور کیجئے مگر مقدّس دین کو کھلواڑ مت بنائیے ۔کیا نواز شریف کو دی گئی بددعاؤں کا اثر ختم ہوگیا یا پھر اُس کے اعمال کی سزا بس اتنی ہی تھی؟ مہربانی فرما کر کسی خوش نما واعظ سے جواب حاصل کرکے مجھے ضرور مطلع کیجئے ۔

۔

میری ایک نصیحت یاد رکھئے واعظین، جوشیلے لیڈروں کو فالو کرنے کی بجائے مُستند علمائے دین ومفتیانِ اسلام کو اپنا آئیڈیل بنائیے اُن کی باتوں کو آگے شیئر کیجئے ان شاء الله خود بھی شرمندگی سے محفوظ رہیں گے اور دین کی بھی حفاظت ہوگی ۔

۔

لمبی تمہید کے بعد اب آتے اصل موضوع کی طرف ۔

۔

اگر آپ پاکستان کی خوشحالی چاہتے ہیں، پاکستان کو دنیا کے نقشے میں اسلامی ملکوں کا نمائندہ دیکھنا چاہتے ہیں تو 👞 سرکار کو حدود میں رکھئے ۔عوامی نمائندوں کو 👞 سرکار کی غلامیت سے نکالئے ۔یقین مانیں پاکستان ترقی بھی کرے گا ۔پاکستان اسلام کا قلعہ بھی بنے گا ۔ حقیقی اسلامی ریاست کا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہوگا ۔

۔

اسلامی سیاست کی سمجھ بوجھ اور بیرونی مداخلتوں کی جانکاری،ملک کے اندر بسنے والے انگریز کے ٹٹوؤں کی حرام کاریوں کے متعلق خبردار رہنے کےلئے مندرجہ ذیل کتابوں کا مطالعہ فرمائیے

نمبر 1

فتاوٰی رضویہ شریف جلد 14 اور 15

نمبر 2

برطانوی مظالم کی کہانی مصنفہ علامہ حکیم اختر شاہجہانپوری

نمبر 3

اسبابِ زوال امّت اور اُن کا علاج مصنفہ شیخ المشائخ علامہ پیر محمد چشتی

نمبر 4

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکمل سیرت

۔

بعض اچھے بچے جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے اُنہیں بھی چاہئے کہ وہ سیاست سے تعلق رکھیں ۔سیاست سے بےتعلق رہنا سُنّی عقائد کے خلاف ہے البتہ تعلق کی دوصورتیں ہیں ۔

نمبر 1

عملاً پارلیمانی سیاست کا حصہ بننا ۔۔۔۔

یہ بہت مشکل اور پرخطر بھی ہے ۔علمائے کرام کو حتی المقدور اِس سے بچنا چاہئے ۔

۔

نمبر 2

سیاستدانوں اور برسرِاقتدار لوگوں کو اسلامی سیاست کے اصولوں وملک گیری کے قوانین سکھانا، اُنہیں امر بالمعروف ونھی عن المنکر کرنا ۔۔۔

یہ مشکل ضرور ہے لیکن علمائے دین کے مناصبِ جلیلہ میں شامل بھی ہے ۔

۔

اگر سُنّی علمائے دین سیاست کی ہر دوصورتوں سے کنارہ کش ہوکر جھاڑ پھونک، دم درود، تعویز دھاگے کا کام سنبھالیں گے تو اسلامی ملکوں کا وہ حشر ہوگا جو اِس وقت مصر کا ہے ۔

واضح رہے مصدر کی حکومت بھی ایک فوجی جرنیل کے پاس ہے اور وہ کئ سالوں سے برسرِ اقتدار ہے ۔

ضیاء چترالی مصر کے متعلق لکھتا ہے “دنیائے اسلام کے اہم ملک مصر کی تباہی و بربادی۔

۔

مصر پر قرضوں کا حجم اب اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ عالمی سود خور ادارے اس کے قومی اثاثوں کو اپنے قبضے میں لینا چاہیں تو اس کی راہ ہموار ہو چکی ہے۔ 2010ء میں مصر پر 54 ارب ڈالر کا قرضہ تھا۔ جو اب 391 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ موجودہ فرعون جنرل سیسی جولائی تک مزید 34.6 ارب ڈالر وصول کرے گا۔ دوسری جانب مصر کے پانی کا انحصار دریائے نیل پر ہے اور اس دریا پر ایتھوپیا بڑا ڈیم تعمیر کر رہا ہے۔ جس کا تعمیری کام تقریباً اختتامی مراحل میں ہے۔ اگر ایتھوپیا نے پانی بند کر دیا تو وہی حالت ہوگی جب مصری باشندے مردار کھانے بلکہ ایک دوسرے کو نوچ کھانے پر مجبور ہوگئے تھے۔ طاغوتی قوتیں دانہ پانی کیلئے ترسا کر انسانیت کو مار کر اپنی تجوریاں بھرتی ہیں۔ مصر کو اس حالت تک پہنچانے والا آئی ایم ایف کا کارندہ رضا باقر اب ہمارے اسٹیٹ بینک کا گورنر ہے۔ نئی حکومت اگر واقعی ملک و ملت کیلئے مخلص ہے تو اس شخص کو فوراً عہدے سے ہٹا کر گرفتار کرنا چاہئے۔

۔

ضیاء چترالی کی گفتگو ختم ہوئ ۔

۔

سیاست سے تعلق رکھنا اِس لئے بھی ضروری ہے کہ علمائے محققین کے تحقیق یہی کہتی ہے کہ گورنمنٹ کو مضبوط کریں، بیرونی سازشوں، مداخلتوں سے اسے محفوظ کرنے کی ہر ممکن اقدامات کریں کیونکہ اسلام اور مسلمانوں کی اتحاد کا پاور اُن کی مسلم اسٹیٹ کے طاقتور یا کمزور ہونے سے ہی وابستہ ہے ۔مزید تفصیل کےلئے مطالعہ فرمائیے متکلمِ اسلام، علامہ پیر محمد چشتی صاحب کی کتاب ” اسبابِ زوال امّت اور اُن کا علاج ۔

۔

نوٹ علامہ صاحب نے یہ کتاب سیدی اعلیٰ حضرت امام اھل سنت رحمۃ اللہ علیہ کے وہ چار نکات جو ترقی سلطنت کی مدد کے تعلق سے مسلمانانِ برصغیر کےلئے فتاوٰی رضویہ جلد 15 میں لکھے گئے تھے ” کی تشریح بیان کرتے ہوئے لکھا ہے ۔۔۔۔

۔

۔

ایک صاحب نے پوچھا اتنے عرصے سے عمران خان نے کوئی کارکردگی نہیں دکھائی اب یہ غلامی سے کیسے نکالے گا ۔

۔

عمران ہو یا کوئی اور جھٹ منگنی اور پٹ بیاہ والا معاملہ ہر جگہ نہیں چلتا ۔

۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی بتدریج نظام بدلا ۔۔۔۔

۔

میری معلومات کے مطابق بعض علمائے کرام مسلسل عمران خان کو گائیڈ کررہے تھے جس کا واضح ثبوت گورنمنٹ کے بعض معاملات میں دکھائی دے رہا تھا ۔علمائے کرام کی یہ کوشش اور عمران خان کا اُن کی باتیں ماننا گوروں کو ہضم نہیں ہوا ۔۔۔

۔

دوسری بات حاکم اگر اسلامی تعلیمات سے بےبہرہ ہے تو علمائے کرام کی بھی ذمہ داری بنتی ہے آگے بڑھیں، اُسے گائیڈ کریں اسلامی نظام تب وجود میں آئے گا جب حاکم اور عالم دونوں ہم آہنگ ہوکر اسلامی ذہن سے سوچیں گے ۔

✍️ ابو حاتم

15/04/2022/