حضرت سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ فداك ابی و امی کے بارے میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

 

ترجمہ : میرا یہ بیٹا سردار ہے ، اللہ پاک اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں صلح کروائے گا ۔ (بخاری حدیث 2704)

 

اس فرمانِ عالی شان سے جہاں امام حسن کی عظیم شان پتا چلی ، وہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی وہ دوسری بڑی جماعت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی تھی ، جس کا فرمان نبوی مسلمان ہونا ثابت ہے ،

 

نیز یہ بھی پتا چلا کہ یہاں صلح ہوچکی تھی ، لہذا جو لوگ کدورت اور صلح بر فساد کا چورن یہاں فِٹ کرتے ہیں ، وہ صحیح نہیں کہ اسلاف نے اس صلح کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو دی جانے خلافت و امارت کو صحیح قرار دیا ہے جیسا کہ

 

حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اسی حدیث پاک کے تحت لکھتے ہیں کہ

 

“اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں جماعتیں ملت اسلام پر ہیں ، باوجود یہ کہ ایک حق پر نہ تھی ، امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ کی صلح اہلسنت و جماعت کے نزدیک حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی امارت و حکومت کے صحیح ہونے کی دلیل ہے۔

 

(اشعتہ اللمعات مترجم 498/4 فرید بک اسٹال لاہور)

 

تو ثابت ہوا ان مشاجرات صحابہ سے پہلے اور بعد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہی رہے ، اور ان کی حکومت و امارت بھی صحیح تھی ، لہذا آپکو منافق کہنا اور آپ کی خلافت کو غلط قرار دینا ، امام حسن پاک کے فیصلے کو ٹھکرانا ، اور گمراہ ہونا کہلائے گا ۔ لہذا ایسے لوگ حدیث کے منکر اور آل رسول کی محبت کے جھوٹے دعویدار کہلائیں گے ۔ الامان والحفیظ

 

✍🏻ارسلان احمد اصمعی قادری

17/4/2022ء